
امریکا نے عراق سے اپنے فوجیوںکی تعداد کم کرنا شروع کر دی،وزیر خارجہ، باقی فوجیوں کا انخلا بھی ٹائم فریم ورک کے مطابق جلد ہی ہو جائے گا، ترجمان
عراق امریکا کا تابعدار نہیں ہے امریکا کو عراق سے جانا ہوگا ،وزیراعظم، امریکی فوجیوں کی تعداد میں صرف کمی کافی نہیں ،تمام فوجیوں کو نکالا جائے ،النجبا تحریک
بغداد(نیوز ڈیسک) عراق سے امریکی فوج نے انخلا کی تیاریاں شروع کردیں جلد ہی 500فوجی واپس چلے جائیں گے، اس بات کا انکشاف مشترکہ آپریشنل کمانڈ کے ترجمان تحسین الخفاجی نے ایک انٹرویو میں کیا،انہوں نے بتایا کہ امریکا سے حالیہ سمجھوتے کے مطابق پہلے مرحلے میں 500 امریکی فوجیوں کا انخلا ہو جائے گا جبکہ باقی فوجیوں کا انخلا بھی ٹائم فریم ورک کے مطابق جلد ہی ہو جائے گا،دوسری جانب وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ عراق امریکا کا تابعدار نہیں ھے امریکا کو عراق سے جانا ہوگا حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق عراقی عوام کے مطالبات کو پورا کرنے کی پابند ہے ، عراق کے لئے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ وہائٹ ہاوس میں کون پہنچتا ہے، عراق امریکا میں منتخب ہونے والے کسی بھی حکمران کا تابع دار نہیں ،عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے بھی کہا ہے کہ امریکا نے عراق سے اپنے فوجیوںکی تعداد کم کرنا شروع کر دی ہے اور باقی بچے عناصر اسکی جنگی فورس کا حصہ نہیں ہیں، حکومت غیر ملکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق پارلیمنٹ کے فیصلے کی پابند ہے اور امریکی حکام کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، النجبا تحریک کی سیاسی کونسل کے چیئرمین علی الاسدی نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی تعداد میں صرف کمی کافی نہیں ، تمام امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس جانا ہو گا، پارلیمنٹ میں الفتح الائنس کے رکن فاضل الفتلاوی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں پارلیمنٹ کے فیصلے پر فوری طور پر عمل کرے ، تنظیم کتائب سید الشہدا کے ترجمان کاظم الفرطوسی نے بھی کہا ہے کہ تحریک استقامت نے اگرچہ عراق سے امریکہ کے فوجی انخلا کے بارے میں مہلت دی ہے تاہم یہ مہلت ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔


































