Thu Oct 15, 2026

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

سینچری ڈیل مقاومتی گروہوں کے ایک دوسرے سے مزید قریب ہونے کا باعث ہے، حماس

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما نے امریکی و صہیونی منصوبے سینچری ڈیل کو فلسطینیوں کی مقاومت و مزاحمت اور فلسطینی گروہوں کے ایک دوسرے سے مزید قریب ہونے کا باعث قرار دیا۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما حسام بدران نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ فلسطینیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر جدوجہد کرنی چاہئے، کہا کہ فتح و حماس کے وفود کے مابین ترکی میں ہونے والی ملاقات مثبت رہی۔
حماس کے رہنما کا کہنا تھا کہ فتح و حماس کے مابین وسیع سمجھوتہ طے پا گیا ہے جس سے فلسطین کے دیگر گروہوں کوآگاہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ فلسطینی گروہ فتح اور حماس کے وفود کے مابین منگل کے روز سے ترکی کے شہر استنبول میں صلح و آشتی سے متعلق مذاکرات شروع ہوئے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 28 جنوری 2020 کو سینچری ڈیل منصوبے کی رونمائی کی جس میں غرب الاردن کے بعض علاقوں کو مقبوضہ علاقوں میں شامل کیا جانا بھی شامل ہے۔
صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے غرب الاردن کے 30 فیصد علاقوں کو مقبوضہ علاقوں میں شامل کرنے کے منصوبے پر یکم جولائی سے عمل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم تمام فلسطینیوں کی جانب سے اور علاقائی و عالمی سطح پر کی جانے والی مخالفتوں کے بعد وہ اپنے اس منصوبے کو ملتوی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تاہم اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کی برقراری کا بیڑا اٹھایا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular