برطانیہ اپنی اسلحہ پیداوار کا 40فیصد سعودیہ کو بیچتا ہے،ایک سال پہلے عدالت نے اسلحہ بیچنے پر پابندی لگائی ،برطانوی حکومت پھر فروخت کیلئے تیار
سعودیہ عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے، برطانوی وزیرکی ہٹ دھرمی، اسلحے کی فروخت کو شروع کرنے کے حکومتی فیصلہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے، سماجی تنظیم
لندن(نیو زڈیسک) یمن میں جارحیت کے باوجود سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی پردوبارہ سوالات اٹھنے لگے ہیں،برطانیہ اسلحہ فروخت کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، اور اسلحے کی اپنی مجموعی فروخت کا 40 فیصد صرف سعودی عرب کو بیچتا ہے،یمن پر جارحیت میں شامل متحدہ عرب امارت سعودی عرب کے بعد برطانیہ سے اسلحہ خریدنے والا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن وہ سب سے زیادہ اسلحہ امریکا سے خریدتا ہے، برطانیہ میں انسانی حقوق کے کارکن اور حزب اختلاف کے سیاستدان سعودی عرب کو اربوں پاونڈ کے اسلحہ کی فروخت پر سوالات اٹھا رہے ہیں، پچھلے موسم سرما میں برطانوی انسانی حقوق کے کارکنوں کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب ایک عدالت نے برطانوی حکومت کو سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے سے روک دیا تھا ، ایک برس کے غور و غوض کے بعد برطانوی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت پھر سے شروع کرنی چاہیے، برطانیہ کی عالمی تجارت کی وزیر لز ٹرس کے ممبران پارلیمنٹ کو دیئے گئے تحریری بیان کے مطابق یمن میں اکا دکا واقعات کے علاوہ سعودی عرب میں عالمی قوانین کی پاسداری کی شدید خواہش اور صلاحیت موجود ہے، اپوزیشن کی ترجمان اور لیبر پارٹی کی رکن ایملی تھورنبری حکومت کے فیصلے کو اخلاقی طور پر ناقابل دفاع سمجھتی ہیں،انہوں نے حکومتی فیصلہ برطانیہ کے خود کو انسانی حقوق کے محافظ کے دعوے کو کمزور کر دیتا ہے،دی کیمپین اگینسٹ دی آرمڈ ٹریڈ نامی تنظیم جس نے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، اس نے اسلحے کی فروخت کو شروع کرنے کے حکومتی فیصلے کواخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا ہے، امریکا کے بعد برطانیہ سعودی عرب کا دوسرا بڑا اسلحہ سپلائر ہے فرانس سعودی عرب کا تیسرا بڑا سپلائر ہے جو سعودی عرب کو 4.3 فیصد اسلحہ مہیا کرتا ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- سعودیہ کو اسلحہ فراہمی پر برطانوی حکومت پھر نشانے پر
سعودیہ کو اسلحہ فراہمی پر برطانوی حکومت پھر نشانے پر
-
Ilyas - جولائی 30, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 7
- 0 minute read


































