
ترکی کیخلاف سازشیں کرنے والے ممالک کا ماضی میں کوئی وجودتھا نہ ہی مستقبل میں رہے گا، اردوان کے بیان پر سعودی عرب میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی
ترک مصنوعات کی درآمد فوری روک دیں، حکام کا درآمدکنندگان کو پیغام، ترک مصنوعات، سرمایہ کاری، سیاحت سمیت ہر چیز کا بائیکاٹ کیا جائے،صدر چیمبر آف کامرس
انقرہ ریاض(نیوز ڈیسک) سعودی عرب اور ترکی ایک دوسرے کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے، ترک صدر طیب اردوان کی سعودی عرب پر تنقید کے بعد سعودی عرب نے ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا، ترک صدر طیب اردوان نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ خلیجی خطے کے بعد عرب ممالک ترکی کو ہدف بنارہے ہیں اور خطے کو عدم استحکام کرنے کی پالیسیوں پر گامزن ہیں،اردوان نے سعودی عرب کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ سازشیں کرنے والے جن ممالک کے بارے میں بات کررہے ہیں ان کا ماضی میں کوئی وجود نہیں تھا اور غالباً مستقبل میں بھی نہیں ہوگا لیکن خدا کی مرضی سے ہم ہمیشہ خطے اپنا جھنڈا لہرائے رکھیں گے، اردوان کے اس بیان کا مطلب یہ نکالا گیاکہ انھوں نے براہِ راست سعودیہ کو تنقید کا نشانہ بنایاہے کیونکہ سعودی عرب 1932 میں وجود میں آیا تھا، اردون کے بیان پر سعودی عرب میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، سعودی حکام نے ترکی کی برآمدات پرپابندی لگادی، تمام درآمدکنندگان سے کہا گیا ہے کہ وہ ترک مصنوعات کی درآمد فوری طور پر روک دیں، اس سے پہلے چیمبر آف کامرس کے صدر چیئرمین عجلان العجلان نے ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترک مصنوعات، سرمایہ کاری، سیاحت سمیت ہر چیز کا بائیکاٹ کردے، یہ قدم ہمارے رہنماو ¿ں، ہمارے ملک، ہمارے شہریوں کے خلاف ترکی کی حکومت کی مسلسل مخالفت کے جواب میں اٹھایا گیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تو ترکی کی مشکلات بڑھ جائیں گی


































