
بڑی طاقتوں کے نمائندوں کی حماس کی قیادت سے ملاقات، غزہ میں ائرپورٹ و بندرگاہ کی تعمیر سمیت 15 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشکش
15ارب ڈالر کے عیوض ہتھیار ڈالنے اور مزاحمت چھوڑنے کی پیشکش کی گئی، مزاحمت، قدس، قوم کی قیمت پر کوئی ترقیاتی منصوبہ قبول نہیں ،اسماعیل ہنیہ
غزہ (نیوز ڈیسک)بڑی طاقتوں نے حماس کو اسلحہ ڈالنے کیلئے 15ارب ڈالر کی پیشکش کردی، حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے قطری مجلے سے انٹرویو میں کہا کہ دو ماہ قبل بڑی طاقتوں کے بعض نمائندے ہمارے پاس آئے تھے جنہوں نے غزہ کے اندر ائرپورٹ و بندرگاہ کی تعمیر سمیت 15 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشکش کی تھی ، بڑی طاقتیں اپنی پیشکش کے عوض چاہتی تھیں کہ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کے فوجی شعبہ کو تحلیل کر کے پولیس میں ضم کر دیا جائے، وہ چاہتے تھے کہ مزاحمتی محاذ اپنا بھاری اسلحہ، خصوصا تل ابیب اور اس سے آگے تک مار کرنے والے راکٹس سے بھی دستبردار ہوجائے ، اس پیشکش کے ذریعے وہ غزہ کی پٹی کو الگ تھلگ کر کے مزاحمتی محاذ کا خاتمہ چاہتے تھے،اسماعیل ہنیہ نے کہاکہ فطری تقاضوں کے مطابق اس پیشکش کو ٹھکرا دیا گیا تھا کیونکہ کوئی بھی ایسا ترقیاتی منصوبہ قبول نہیں کیا جا سکتا جس کی قیمت فلسطین، مزاحمت، قدس، فلسطینی قوم اور مغربی کنارے سے ہاتھ اٹھانا قرار پائے ،ہم غزہ کے محاصرے کے فی الفور خاتمے کے خواہاں ہیں جبکہ بندرگاہ اور غزہ کے ترقیاتی منصوبوں کو اپنے حق کے طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں نہ کہ طرف مقابل کے سیاسی اصولوں کو قبول کرنے یا اسلحہ رکھنے کی شرط پر۔


































