
جموں و کشمیر پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے لیڈر وحید الرحمان پرہ کو جمعہ کے روز 15دن کے لئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں دے دیا گیا۔ وحید پرہ کو بدھ کے روز دہلی میں عسکری پسندوں کے ساتھ ساز باز کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وحید پرہ کو آج جموں لاکر این آئی اے کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ان پر الزام عائد کیا گیا کہ اُن کے عرفان شفیع میر کے ساتھ ’’قریبی روابط“ تھے۔
شفیع میر کو رواں برس کے اوائل میں نوید بابو نامی جنگجو کے ہمراہ اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب سابق پولیس آفیسر دیویندر سنگھ دونوں کو وادی سے باہر لے جارہا تھے۔ وحید پرہ کو گرفتاری کے اگلے روز یعنی جمعرات کو دلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں این آئی اے نے اُسے جموں کی عدالت میں پیش کرنے کے لئے ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کی۔ ذرائع کے مطابق دیویندر سنگھ کیس کی تحقیقات کے دوران این آئی اے کو وحید پرہ اور شفیع میر کے ٹیلی فون رابطے کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ فیع میر نے پوچھ کے دوران اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وھید پرہ نے 2019ء پارلیمانی انتخابات کے دوران اُن سے پارٹی اُمیدوار محبوبہ مفتی کے لئے حمایت طلب کی تھی۔
علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ایک بار پھر اُنہیں حراست میں لے لیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ دو دن سے اپنے ساتھی وحید پرہ کے اہلخانہ سے ملنے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن انتظامیہ وحید پرہ کے اہلخانہ سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی وزراء اور اُن کے کٹھ پتلیوں کو پورے کشمیر میں گھومنے کی اجازت ہے لیکن صرف میرے لیے سیکیورٹی ایک مسئلہ ہے۔ اپنے بیان میں اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ظلم کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔


































