
دھماکا اسلحہ گودام میں ہوا،ساحلی علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا،کئی کلومیٹر دور تک تباہی، گاڑیاں اڑ کر عمارتوں کی تیسری منزل پر جا گریں،اسپتال زخمیوں سے بھر گئے
ہیرو شیما جیسی تباہی ہوئی، 3ارب سے پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہوا،گورنر، دھماکے کے ذمے داران کو قیمت چکانا ہو گی،وزیراعظم،اسرائیل پر دھماکے کا شبہ
بیروت (نیوز ڈیسک)لبنان کے دارالحکومت بیرو ت کی بندرگاہ پر اسلحے کے گودام میں دھماکے سے ساحلی علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، دھماکا اتنا شدید تھا کہ دو ردور تک تباہی پھیل گئی ، 24 کلومیٹر دور تک عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، کئی گاڑیاں اڑ کر عمارتوں کی تیسری منزل پر جا گریں، دھماکوں سے ہلاک افراد کی تعداد 100سے تجاوزکر گئی جب کہ 4000 افرادسے زائد زخمی ہیں، اسپتالوں میں زخمیوں کے لیے جگہ باقی نہیں رہی ، درجنوں زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے سبب اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے،بیروت کے گورنر نے بندر گاہ پر ہونے والے دھماکوں کو ہیرو شیما جیسی تباہی قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ دھماکے سے ڈھائی سے 3لاکھ افراد بے گھر ہوگئے جبکہ 3ارب سے پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہواہے، لبنان کے وزیراعظم نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے اس گودام میں ہوئے جہاں 2750 ٹن ایمونیم نائٹریٹ رکھا ہواتھا، اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ 6 برس سے یہ مواد وہاں کیسے موجود تھا ،انہوں نے واضح کیا ہے کہ دھماکے کے ذمے داران کو قیمت چکانا ہو گی، لبنان میں میڈیا ،حکومتی ذرائع اور عام شہر ی بھی دھماکے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کررہے ہیں کیونکہ دھماکے سے کچھ ہی دیر پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے دھمکی آمیز بیان دیا تھ


































