بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیرمیں ریاستی دہشتگردی کے نئے ثبوت دنیا کے سامنے آگئے جس سے بھارتی فوج کا مکروہ چہرہ ایک بارپھر بے نقاب ہو گیا۔ رواں سال جولائی میں بھارتی فوج کی جانب سے 3 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ بھارتی فوج کے افسر کیپٹن بھوپندرا سنگھ اور اس کے 2 ساتھیوں نے 3 کشمیری کزنز کے قتل کے بعد موت کو فوجی مقابلہ قرار دیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے خود ان کی میتوں پر اسلحہ رکھا تاکہ بےگناہ نوجوانوں کو خطرناک دہشتگرد قرار دیا جا سکے۔ یہی نہیں بلکہ سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فوج نے معصوم کشمیریوں کو نامعلوم مقام پر خاموشی سے دفنا دیا تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے نہ آ سکے تاہم جب دہشتگرد قرار دے کر قتل کیے گئے نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو مقتولین کے اہل خانہ نے انہیں شناخت کر لیا۔ اہلخانہ نے بتایا کہ تینوں بے روزگار نوجوان سیبوں کے باغات میں نوکری کی تلاش کے لیے گھروں سے نکلے تھے لیکن کچھ روز سے ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ مقبوضہ وادی میں عوام کی جانب سے دباؤ بڑھنے اور حقائق دنیا کے سامنے آنے کے بعد بھارتی فوج نے نامعلوم مقام پر دفنائی گئی لاشیں ورثا کے حوالے کی تھیں۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- بھارتی فوج کا مکروہ چہرہ بے نقاب، کشمیری نوجوانوں کو…
بھارتی فوج کا مکروہ چہرہ بے نقاب، کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں مارنے کا بھانڈا پھوٹ گیا
-
- دسمبر 28, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 13
- 0 minute read


































