
تحریک انصاف نے 9نشستیں اپنے نام کیں، اتحادی ایم ڈبلیوایم ایک نشست پر کامیاب ، 7 نشستوں پر آزاد ،4 پر پیپلز پارٹی ،دو پر مسلم لیگ ن کامیاب
گذشتہ الیکشن میں اسلامی تحریک اور وحدت مسلمین کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کے باعث بیشتر حلقوںمیں نواز لیگ جیت گئی تھی،اسلامی تحریک کو کوئی نشست نہیں ملی
گلگت (نیوز ڈیسک) مجلس وحدت مسلمین کی مدد سے تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں میدان مار لیا ، تحریک انصاف نے 9نشستیں اپنے نام کیں جبکہ اس کی اتحادی ایم ڈبلیوایم نے بھی ایک نشست جیت لی، 7 نشستوں پر آزاد ،4 پر پیپلز پارٹی اوردو پر مسلم لیگ ن اور کا امیدوار فتح اپنے نام کرسکا،تحریک انصاف کو سادہ اکثریت نہیں ملی لیکن وہ آزاد امیدواروں کی حمایت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے ،کیونکہ سات امیدوار وں میں سے تین تحریک انصاف کی حمایت سے کامیاب ہوئے ہیں،تحریک انصاف کی کامیابی میں اصل ہاتھ مجلس وحدت مسلمین کی حمایت کو قرار دیا جارہا ہے،2015میں ایم ڈبلیو ایم نے ان تمام حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور نمایاں ووٹ لئے تھے لیکن اسلامی تحریک اور وحدت مسلمین کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے بیشتر حلقوںمیں نواز لیگ جیت گئی تھی، گلگت دوسے فتح اللہ ، اسکردوایک سے راجہ زکریا خان، کھرمنگ سے امجدعلی زیدی، شگر سے راجہ اعظم، استور ایک سے خالد خورشیدخان،استور دو سے شمس الحق لون ،ہنزہ سے عبیداللہ ،دیامر تین سے حیدر خان کے تحریک جبکہ اسکردو دو سے ایم ڈبلیو ایم کے کاظم میثم کامیاب ہوئے ہیں، حلقہ ایک گلگت اور حلقہ 4 نگر سے پی پی پی کے ایک ہی امیدوار امجد ایڈوکیٹ کی کامیابی کے نتیجے میں کسی ایک نشست پر ضمنی انتخاب چند روز میں متوقع ہے خالی کی گئی نشست پر تحریک انصاف کی کامیابی متوقع ہے،اپوزیشن نے گلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج مسترد کر دیئے ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میرا الیکشن چوری ہو گیا، ہم سیاسی لوگ ہیں ہم بھی جذباتی ہوسکتے ہیں، انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیاجائے،مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انتخابات نہیں بندربانٹ ہوئی ہے،مریم نواز نے کہا ہے کہ پوری ریاستی طاقت کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک ہے


































