
سلامتی کونسل میں امریکی قراردادکو صرف ایک ووٹ ملا،اتحادی ممالک نے بھی ساتھ نہ دیا، امریکا کو ایک تاریخی ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا،ایرانی صدر
پابندیوں کیلئے ایٹمی معاہدے میں اسنیپ بیک کو استعمال کیا جائے گا،ٹرمپ کا دعویٰ، امریکا معاہدہ کا حصہ نہیں وہ کسی شق کو استعمال نہیں کرسکتا،یورپی یونین
تہران /واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا سلامتی کونسل میں شرمناک شکست کے باجود ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا اور ایران پر پابندیوں کیلئے ایٹمی معاہدے کی شق کے تحت اسنیپ بیک کو استعمال کرنے کی دھمکی دیدی، تفصیلات کے مطابق ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیوں میں توسیع کی غرض سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی تمامتر دوڑ دھوپ رائیگاں چلی گئی ،سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد کو صرف ایک چھوٹے سے ملک ڈومینکن ری پبلک کی حمایت ملی ، 15رکنی کونسل میں امریکی اتحادی فرانس،برطانیہ اور جرمنی سمیت 11ممالک غیر حاضر رہے جبکہ چین اور روس نے قراردادکی مخالفت میں ووٹ دیا، ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کی تاریخی اور ذلت آمیز شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اسلحے کی پابندی کی مدت بڑھوانے میں امریکا کو منھ کی کھانا پڑی ہے اور اسے ایک تاریخی ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا ہے،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 75 سالہ تاریخ میں امریکا پہلی بار اس حد تک تنہائی کا شکار ہواہے، تاریخی ذلت کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تمام پابندیاں دوبارہ عائد کروانے کا دعوی کیا ہے،انہوں نے کہا کہ پابندیوں کیلئے ایٹمی معاہدے میں اسنیپ بیک کو استعمال کیا جائے گاحالانکہ امریکا ایٹمی معاہدے سے نکل گیا ہے ، یورپی یونین کے خارجہ پالیسی چیف جوزف بورل کے ترجمان نے کہا ہے کہ چونکہ امریکا ایٹمی معاہدے سے نکل چکا ہے اور اس کے اجلاسوں اور سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لے رہا ہے لہٰذا واشنگٹن کو ایٹمی معاہدے کا رکن نہیں سمجھا جاسکتا اور اس کی کسی شق کو استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا ہے۔


































