
اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا منصوبہ ہمیشہ سے سعودی حکام کے مد نظر رہا ہے اور یہ منصوبہ پہلی بار1982 میں شاہ فہد نے پیش کیا تھا، فیصل بن فرحان
ہمارے ساتھ تعلقات سے اسرائیل کو خطے میں اس کا مقام ملے گا لیکن اس کو وقوع پذیر ہونے اور پائیداری کیلئے فلسطینی ریاست قائم کرنے کی ضرورت ہے
ریاض (نیوز ڈیسک) سعود ی عرب نے اسرائیل سے تعلقات کے قیام کو اپنا قدیم ایجنڈا قرار دے دیا ، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا منصوبہ ایک زمانے سے سعودی حکام کے مد نظر رہا ہے اور یہ منصوبہ پہلی بار1982 میں فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے پیش کیا تھا، ریاض کا وڑن یہ ہے کہ اسرائیل اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ مکمل تعلقات قائم کرے اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کرے،انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ معمول کے مکمل تعلقات استوار کرنے کیلئے ہمیشہ سے تیاررہے ہیں اور ہمارا یہ خیال ہے کہ اسرائیل کو خطے میں اس کا مقام ملے گا لیکن اس کو وقوع پذیر ہونے اوراس کی پائیداری کیلئے فلسطینیوں کی ریاست قائم کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا،اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے،انہوں نے اسرائیل کی خوشنودی کیلئے ایک بارپھر ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور کہا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے سے پہلے خلیج فارس کے عرب ملکوں سے مشورہ لینا چاہی


































