
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت خطے کی واحد جوہری بم بنانے والی فیکٹری ڈیمونا کو وسیع سے وسیع تر کر رہی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ غاصب صہیونی حکومت خطے کی واحد جوہری بم بنانے والی فیکٹری ڈیمونا کو توسیع دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر، عالمی جوہری ادارے، برطانیہ کے وزیر اعظم بوریس جانسن، فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون اور جرمن چانسلرانگلا مرکل کو مخاطب کیا۔ جواد ظریف نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ بہت فکرمند ہیں؟ کیا آپ بہت پریشان ہیں؟ کیا آپ کو تھوڑی تشویش لاحق ہے؟ کیا آپ کیلئے یہ موضوع اہمیت کا حامل ہے کہ اس پر آپ کچھ کہیں؟ میرا خیال تھا کہ ایسا ہے۔
دوسری جانب جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ رافائل گروسی تہران پہنچ گئے ہیں۔ تہران میں ایران کے جوہری ادارے کے نائب سربراہ اور عالمی جوہری ادارے میں ایران کے نمائندے کاظم غریب آبادی اور ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ان کا استقبال کیا۔ رافائل گروسی اپنے دورہ تہران میں ایران کے اعلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
واضح رہے کہ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ رافائل گروسی کا یہ دوسرا دورہ ایران ہے۔ رافائل گروسی نے اگست کے مہینے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کی باضابطہ دعوت پر ایران کا پہلا دورہ کیا تھا اور اس دورے کا مقصد آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان تعاون کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے۔


































