
صنعا : یمن کے سعودی نواز مستعفی و مفرور صدر منصور ہادی نے اپنے خود ساختہ اختیارات نئے قائم کردہ صدارتی کونسل کے حوالے کر دیے ہیں یہ تحریک استقامت کی کامیابی اور جارحین کی بڑی شکست کی علامت ہے جو منصور ہادی کو بحال کرنے کیلئے 7 سال سے یمن پر حملہ آورہیں۔ عبدربومنصور ہادی نے ایک بیان میں کہا ہےکہ انہوں نے اپنے اختیارات صدارتی قیادت کونسل کو سونپ دئے ہیں اور نائب صدرعلی محسن الاحمر کو برطرف کر دیا ہے۔ بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ کونسل سابق صدر اور ان کےنائب کی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ اورعبوری دورکے دوران سیاسی، فوجی اور سیکیورٹی امور کی نگرانی کرے گی۔ یہ اقدام خلیج تعاون کونسل کے وضع کردہ 2011 میں اقتدار کی منتقلی کے اقدام کے مطابق کیا گیا ہے۔ کونسل ایک چیئرمین اور سات نائب چیئرمینوں پر مشتمل ہے سربراہی ایک سیکیورٹی اہلکار رشد العلیمی کریں گے جو علی عبداللہ صالح کی صدارت کے دوران وزیر داخلہ تھے۔ منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کیلئے یمن پر جنگ مسلط کرنے والے سعودی عرب نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور صدارتی کونسل پر زور دیا کہ وہ یمن کی مقبول مزاحمتی تحریک انصار اللہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرے ۔ مملکت نے یہ بھی کہا کہ وہ یمن کی معیشت کے لیے 3 ارب ڈالر کی امداد کا بندوبست کرے گا، 2 ارب ڈالر ریاض سے اور باقی متحدہ عرب امارات سے آئے گے۔


































