Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

کورونا وائرس، نسل پرستی، عدم مساوات، امریکی طلبہ ڈپریشن کا شکار

امریکا میں کالج کے طلبہ و طالبات میں ڈپریشن بڑھنے لگا ہے، جو اب اپنی سب سے بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ سروے بوسٹن یونیورسٹی کی ایک ریسرچر سارہ کیچن لپسن نے کیا۔ اپنے سروے میں اس ریسرچر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکا میں مختلف کالجز میں پڑھنے والے تقریباً 33 ہزار طلبہ نے خود کو ڈپریشن کا شکار پایا۔
تحقیق میں کورونا وائرس، سیاسی عدم استحکام، نسل پرستی اور عدم مساوات کو نوجوانوں میں بڑھتے اس ڈپریشن کے عوامل قرار دیا گیا۔ سارہ نے بتایا کہ 2020 کے تعلیمی سال کے آغاز پر تقریباً نصف طلبہ ڈپریشن یا پریشانی سے متعلق مثبت دکھائی دیے۔ سروے کے مطابق تقریباً 83 فیصد طلبہ نے کہا ہے کہ ان کی ذہنی صحت کی وجہ سے ان کی پڑھائی پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً دو چوتھائی طلبہ ایسے ہیں جو تنہائی سے لڑنے میں لگے ہیں۔ سارہ کیچن لپسن کا کہنا تھا کہ ان کے اس سروے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جامعات کے اساتذہ کو ایسا طریقہ کار مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ جس سے طلبا کی ذہنی صحت کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔

مزید پڑھیے

Most Popular