
سابق فرانسیسی وزیر اعظم ایڈورڈ بیلاڈور پر آج سے مقدمہ چلایا جائے گا۔ کراچی افیئر کے نام سے مشہور اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990 کی دہائی میں ناکام صدارتی مہم کے سلسلے میں فنڈز کی فراہمی کے لیے اسلحہ کے معاہدوں میں رشوت لی تھی۔ 91 سالہ بیلاڈور بدانتظامی کے الزامات کا سامنا کرنے والے فرانسیسی سیاست دانوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن گئے ہیں، جہاں اس فہرست میں سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے پیش رو جیک چیراک بھی شامل ہیں۔ قدامت پسند سابق وزیر اعظم پر کورٹ آف جسٹس آف دی ریپبلک ان پیرس میں مقدمہ چلایا جائے گا، فرانس میں وزارتی بدانتظامی کے مقدمات کی سماعت کے لیے یہ ٹریبونل وقف ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ان کے 78 سالہ سابق وزیردفاع فرینکوئس لیٹارڈ پر بھی مقدمہ چلایا جائے گا البتہ ٹرائل کے ابتدائی مرحلے میں بیماری کی وجہ سے ان کی شرکت غیر یقینی ہے۔ ان کے وکیل فیلکس ڈی بیلائے نے بتایا کہ بیلاڈور منگل کو ججوں کا سامنا اور ان کے سوالوں کے جوابات دینے کے لیے عدالت میں پیش ہوں گے۔ ان دونوں افراد پر 1993ء سے 1995ء کے دوران پاکستان کو سب میرینز اور سعودی عرب کو جنگی جہازوں کی فروخت کے لیے کارپوریٹ اثاثوں کے غلط استعمال میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے جب فرینکوئس میٹرینڈ کے دور صدارت کے آخری دنوں میں بیلاڈور وزیر اعظم تھے۔
افراط زر کا حساب کتاب کرنے کے بعد کک بیکس کا تخمینہ 13لاکھ فرینکس ہے جس کی مالیت اب تقریباً 28لاکھ یورو (33لاکھ ڈالر) ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ اس رقم میں اضافی ایک کروڑ فرینکس کی رقم بھی شامل کی گئی تھی جسے بیلاڈور نے 1995ء میں چیراک کے خلاف ناکام صدارتی مہم میں استعمال کیا تھا۔ بیلاڈور نے صحت جرم سے انکار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ فرینکس ریلیوں میں ٹی شرٹس اور دیگر اشیاء کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے۔ یہ الزامات کراچی میں 2002 میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران سامنے آئے تھے جب فرانسیسی انجینئروں کو لے جانے والی ایک بس کو کراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس دھماکے میں سب میرین معاہدے کے سلسلے میں کام کرنے والے 11 انجینئروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ابتدائی طور پر اس حملے کا شبہ القاعدہ کے دہشت گرد نیٹ ورک پر کیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں یہ توجہ اسلحے کے معاہدے کی طرف موڑ دی گئی کیونکہ تفتیش کاروں نے غور کیا کہ کیا یہ بمباری چیرا کی جانب سے اسلحہ کے معاہدوں کے کمیشن کی ادائیگی روکنے کے فیصلے کا بدلہ ہو سکتی ہے جنہوں نے صدارتی انتخابات میں بیلاڈور کو شکست دینے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا۔، چھ کو پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے۔ لیوٹارڈ پر الزام ہے کہ اس نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ معاہدوں کے سلسلے میں ثالثوں کا مبہم نیٹ ورک بنایا تھا۔
سابق وزیر اعظم پر بھی بجٹ کی وزارت کو ہدایت دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کی سربراہی اس وقت سرکوزی نے کی تھی جہاں یہ الزام بھی تھا کہ وہ مبینہ کک بیکس کے بدلے کم رقم کے حامل معاہدوں کی ریاستی گارنٹیوں کی منظوری دیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بیلاڈور کے انتخابی فنڈ میں نقد رقم جمع کروانے کا ایک لبنانی فرانسیسی فرد زیاد ٹیکی دیان کے دورہ سوئٹزرلینڈ سے ٹکراؤ ہوتا ہے جو طویل عرصے سے فرانسیسی دائیں بازو کے حلقوں میں سرگرم عمل ہے۔ گزشتہ جون میں پیرس کی ایک عدالت نے کراچی میں رشوت کی وصولی میں کردار ادا کرنے پر پیرس کی ایک عدالت نے زیاد ٹیکی دیان اور ایک اور فرد عبدالرحمٰن ال اسیر کو 5سال قید کی سزا سنائی تھی۔
جس کے بعد زیاد لبنان فرار ہو گیا تھا۔ بیلاڈور کے سابق انتخابی منیجر نکولس بازیر کو اسی عدالت نے تین سال کی سزا سنائی جیسا کہ لیوٹارڈ کے مشیر رینود ڈونیڈیو ڈی وبریس کو بھی اتنی ہی سزا سنائی گئی تھی۔ وزارت خزانہ میں سرکوزی کے مشیر اور سرکاری ملکیت والے بحری ٹھیکیدار ڈی سی این کے ایک سابق ایگزیکٹو تھیری گاؤبرٹ کو دو سال کی سزا سنائی گئی، ان تمام افراد فیصلوں کے خلاف اپیل کی تھی۔


































