
فرانس کا لبنانی قیادت پرحزب اللہ اور امل ملیشیا کو کابینہ میں شامل نہ کرنے یا غیر اہم وزارتیں دینے پرزور، دو نوں جماعتیں غیر اہم وزارتیں لینے پر تیار نہیں
لبنانی حکومت کی تشکیل میں ناکامی میں امل ملیشااور حزب اللہ کا ہاتھ ہے،لبنانی جماعتیں اجتماعی غداری کا ارتکاب کر رہی ہیں،فرانس کے صدر بھڑک اٹھے
بیروت (نیوز ڈیسک) فرانس کی کھلی مداخلت کی وجہ سے لبنان میں سیاسی بحران سنگین ہوگیا نو منتخب وزیراعظم مصطفیٰ ادیب کابینہ کی تشکیل میں تعطل کے باعث مستعفی ہو گئے ہیں، فرانس کی جانب سے لبنانی قیادت پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ حزب اللہ اور امل ملیشیا کو کابینہ میں شامل نہ کریں یا پھر انہیں غیر اہم وزارتوں پر ٹرخا دیں تاہم دو نوں جماعتیں غیر اہم وزارتیں لینے پر تیار نہیں اور سابقہ معاہدہ کے مطابق کابینہ میں اپنے حصے پر زور دے رہی ہیں ، مصطفیٰ ادیب نے صدر مشعل عون سے ملاقات کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا جسے فرانس کے صدر نے انتہائی مایوس کن قرار دیا ،انہوں نے کہا تھا کہ کابینہ میں غیر جانبدار ماہرین شامل کیے جائیں جو ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اصلاحات نافذ کریں،انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکومت کی تشکیل میں ناکامی میں امل ملیشااور حزب اللہ کا ہاتھ ہے،لبنانی جماعتیں اجتماعی غداری کا ارتکاب کر رہی ہیں


































