
حملہ میں اسرائیلی اسلحہ استعمال ہوا ، ہتھیار پر اسرائیلی فوجی صنعت کا لوگو اور تفصیلات درج ہے، دشمن نے مکمل طور پر نیا، پروفیشنل اور مختلف طریقہ کار استعمال کیا
دنیا کو اسرائیل کا شکریہ ادا کرنا چاہئے،قتل کا تعلق امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے ہے، اسرائیلی عہدیدار ،خطے میں تنازعے کو ہوا ملے گی، سابق سی آئی اے چیف
تہران(نیوز ڈیسک) ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ،ایرانی میڈیا کے مطابق حملہ میں اسرائیلی اسلحہ استعمال ہوا ، جائے واردات سے ملنے والے ہتھیار پر اسرائیلی فوجی صنعت کا لوگو اور تفصیلات درج ہیں ، قومی سلامتی زمہ دار علی شمخانی کا کہنا تھا کہ دشمن نے مکمل طور پر نیا، پروفیشنل اور مختلف طریقہ کار استعمال کیا، اگرچہ اسرائیل نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور ناھی تردید کی لیکن نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اسرائیلی عہدیدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ محسن فخری زادہ کے قتل پر دنیا کو اسرائیل کا شکریہ ادا کرنا چاہئے،اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کیخلاف ہر ممکن اقدام کرے گا، اسرائیل کے سابق انٹیلی جنس چیف، ایئرفورس جنرل اور واشنگٹن میں اسرائیلی ملٹری اتاشی عاموس یادلین نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے 2 ہفتے قبل کے تل ابیب کے دورے کو ممتاز ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ براہ راست مربوط قرار دیا ہے،، بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے محقق اور سابق سی آئی اے افسر بروس ریڈل نے کہاکہ اسرائیل نے ایران کے پڑوسی ممالک جیسا کہ آذربائیجان کے ساتھ قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھایا ہے اور وہ ان ممالک کو جاسوسی اور جاسوسوں کی بھرتی کیلئے بھی استعمال کر رہا ہے، سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے کہا کہ سائنسدان کا قتل مجرمانہ اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے جو خطے میں تنازعے کو ہوا دینے کا سبب بن سکتا ہے۔


































