
عرب اسرائیل تعلقات کے حوالے سے ا مریکا جس چیز کی پلاننگ کر رہا ہے، وہ کوئی پتھر کی لکیر نہیں ہے، اقوام عالم واشنگٹن کے منصوبوں کو خاک میں ملا سکتی ہیں
امریکا ایران، حزب اللہ اور فلسطین سے تعلقات پر رائے مسلط نہیں کر سکتا، ہمارے لئے امریکیوں کا مکمل انخلاسب سے اہم ہے، معاون خصوصی بشار الاسد
دمشق(نیوزڈیسک)شام نے ایران، حزب اللہ اور فلسطین سے تعلق ختم کرنے کیلئے امریکی دباوَکو سختی سے مسترد کردیا اور واضح کیا کہ امریکا ایران، حزب اللہ اور فلسطین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر اپنی رائے مسلط نہیں کر سکتا، صدر بشار اسد کی معاون خصوصی بثینہ شعبان نے ایک انٹرویو میں ٹرمپ انتظامیہ کی زیر نگرانی صیہونی حکومت کے ساتھ بعض عرب ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں سے متعلق کہا کہ ا مریکا جس چیز کی پلاننگ کر رہا ہے، وہ کوئی پتھر کی لکیر نہیں ہے، اقوام عالم واشنگٹن کے منصوبوں کو خاک میں ملا سکتی ہیں ،امریکا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے من مانی کر رہا ہے، یہ شام نہیں تھا جس نے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کئے بلکہ یہ امریکا تھا کہ جس نے سرزمین شام پر جارحیت کا ارتکاب کیا، انہوں نے امریکی نمائندہ خصوصی جیمز جیفری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ہم شام کے اقتدار اعلی اور اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، بائیڈن حکومت کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ نئی امریکی حکومت کی پالیسی کیا ہوتی ہے، تاہم ہمارے لئے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ سرزمین شام سے امریکیوں کا مکمل انخلا ہے، ایک اچھے اور بہتر مستقبل کے لئے عرب اقوام میں اب بھی عزم و ارادہ موجود ہے اور مغرب جو عزائم رکھتا ہے اس کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلے گا، فلسطینی کاز کی پابندی اور تمام مقبوضہ علاقوں کی واپسی کے سوا اور کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں۔


































