
عالم اسلام بالخصوص ایران او عراق کے معاشروں میں شہدائے قدس شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی مہندس سے محبت اور، امریکی، سعودی، صہیونی شیطانوں سے نفرت کا اندازہ لگانا ہو تو موجودہ عراقی پارلیمنٹ کے درو دیوار اس کی گواہی دینے کے لیے کافی ہیں۔ ایوان کے اندر، باہر، گیلریوں اور دیگر مقامات پر مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی تصاویر کی بھرمار ہے۔ عراق کے پارلیمانی ذرائع کے مطابق قاسم سلیمانی کی بزدلانہ امریکی آپریشن میں شہادتوں کی پہلی برسی پر عراق میں سرکاری سطح پر تقریبات منائی جا رہی ہیں۔
عراقی پارلیمنٹ کے زیراہتمام اس حوالے سے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں عراق کی سرکردہ سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے عراق کے صدر مملکت، عراقی وزیراعظم، عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر، مزاحمتی گروہوں، الفتح اتحاد کے سربراہ ھادی العامری اور دیگر رہنماؤں کو بھی شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کی پہلی برسی کی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حاج قاسم سلیمانی شہید کی برسی کے موقع رہبر انقلاب اسلامی نے عوامی سطح پر تقریبات پر تاکید فرمائی ہے۔


































