
یہودمخالف احادیث بھی درسی کتب سے نکال دی گئیں، درسی کتب میں موجود صہیونی خطرہ کے عنوان پرپورا باب حذف کردیا گیا،جہاد سے متعلق مواد بھی صاف
اسرائیلی دشمن کا لفظ صہیونی دشمن سے تبدیل، نصاب سے عیسائیوں اور ہم جنس پرستوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کو بھی حذف کردیا گیاہے،رپورٹ میں انکشاف
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کیلئے پیشرفت کرتے ہوئے اپنے تعلیمی نصاب سے اسرائیل اور صہیونیت مخالف تمام مواد کو نکال دیا ، اسرائیلی میڈیا کے مطابق 2020میں جو نصابی کتب شائع ہوئی ہیں ان میں صہیونی ،اسرائیل اور یہود مخالف کسی قسم کا مواد موجود نہیں حالانکہ 2019تک یہ مواد درسی کتب میں شامل تھا، نصاب سے جہاد سے متعلق مواد بھی صاف کردیا گیا ہے ،رپورٹ کے مطابق یہودیوںسے متعلق رسول اکرم کی حدیث کہ یہود ونصاریٰ تمہار ے کبھی دوست نہیں ہوسکتے کو نکال دیا گیاہے، نصابی کتب میں اب کسی ایسی جنگ کی مذہبی پیش گوئی موجود نہیں کہ مسلمان تمام یہودیوں کو مار ڈالیں گے، مقبوضہ بیت المقدس میں مقیم ایک مانیٹرنگ گروپ نے سعودی عرب کے حالیہ نصاب کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے گروپ کے مطابق کتب میں صہیونی خطرہ کے عنوان سے ایک پورا باب موجود تھا جو اب موجود نہیں، گروپ کے سی ای او ، مارکس شیف نے بتایا کہ نئی درسی کتابیں مملکت میں نصاب کو جدید بنانے کی ایک ادارہ کی کوشش کی نمائندگی کرتی ہیں ، سعودی حکام نے یہودیوں کے خلاف نفرت کے خاتمے کا عمل شروع کردیا ہے ،، اسرائیل کے ساتھ رویے زیادہ متوازن اور روادار ہوگئے ہیں،اسرائیلی دشمن کے لفظ کو صہیونی دشمن سے بدل دیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق نصاب سے عیسائیوں اور ہم جنس پرستوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کو بھی حذف کردیا گیاہے۔


































