
جمال خاشقجی کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے، امریکی صدارتی امیدوار کا جمال خاشقجی کے قاتل بن سلمان سے اظہار برات
یمن جنگ میں حمایت سے ہاتھ کھینچ لوں گا،اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکا اسلحہ کی فروخت یا تیل خریدنے کیلئے اقدار کو داو ¿ پر نہیں لگائے گا،جوبائیڈن
واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوارجوبائیڈن نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں نظر ثانی کروں گا،بائیڈن نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے دوسری برسی پر جاری اس پیغام کی حمایت کا اعلان جس میں بن سلمان کو قتل کا ذمہ دارٹہرایا گیاہے، بائیڈن نے کہاکہ دو سال پہلے سعودی کارکنوں نے مبینہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ناراض، صحافی، اور امریکی رہائشی جمال خاشقجی کو قتل کر کے ان کی لاش ٹکڑے ٹکڑے کردی، ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے،آج، میں بہت سارے بہادر سعودی خواتین اور مرد، کارکنوں، صحافیوں کے ساتھ ہوں جو خاشقجی کی موت پر سوگوار ہیں اور دنیا میں ہر جگہ کے لوگوں کی عالمی حقوق کو آزادی کے ساتھ استعمال کرنے کی اپیل کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ وہ صدر بنے تو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیں گے اور یمن کی جنگ میں امریکی حمایت سے ہاتھ کھینچ لوں گا،اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکا اسلحہ کی فروخت یا تیل خریدنے کے لئے اپنی اقدار کو داو ¿ پر نہیں لگائے گا،جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے لئے وابستگی امریکا کی ترجیح ہوگی یہاں تک کہ ہمارے قریبی سیکیورٹی شراکت دارکے ساتھ بھی، بائیڈن نے کہا کہ وہ دنیا بھر کے سرگرم کارکنوں، سیاسی مخالفین اور صحافیوں کے حق کا دفاع کریں گے تاکہ وہ ظلم و ستم اور تشدد کے خوف کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرسکیں،جمال کی موت رائیگاں نہیں ہوگی، اور ہم ان کی یادوں پر پابند ہیں کہ انصاف اورآزاد دنیا کے لئے مزید جدوجہد کریں


































