Thu Oct 15, 2026

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

ترکی: حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کرنے والے 27 افراد کو عمر قید کی سزا

ترکی میں 2016ء میں حکومت کے خلاف بغاوت اور اس کا تختہ الٹنے کی مختصر لیکن خون آشام کوششوں میں ملوث 27 افراد کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ اپنی نوعیت کے ایک بہت بڑے مقدمے میں سابقہ پائلٹ اور کئی اعلیٰ عہدیداروں کو یہ سزا سنائی گئی ہے۔ 2016 میں فوج کی پشت پناہی میں ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوان کو حکومت سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، کہا جاتا ہے کہ اس کی پشت پرمذہبی اسکالر فتح اللہ گیولن ہیں جو پہلے تو اردوان کے حامی تھے لیکن اب وہ ان کے مخالف ہوچکے ہیں اور امریکا میں مقیم ہیں، ترکی ان کی جماعت کو دہشت گردوں کا ٹولہ قرار دیتا رہا ہے جبکہ فتح اللہ نے اس سے انکار کیا ہے۔
اس محاذ آرائی کے دوران 251 افراد ہلاک اور 2000 سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے۔ ترک عدالت نے فضائیہ کے فائٹر پائلٹوں کو انقرہ میں بمباری کرنے اور فوجی اڈے سے بغاوت کا منصوبہ بنانے پر ایک سے زائد مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ جن جرائم کی سزا دی گئی ہے ان میں آئین سے انحراف، عوامی قتل اور صدر رجب طیب اردوان کو قتل کرنے جیسی دفعات اور الزامات شامل ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس افق یقین نے اپنا فیصلہ سنایا کیونکہ وہ اس بغاوت سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے نمائندہ بھی ہیں۔ حکومت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی میں سب سے پہلے چیف آف اسٹاف ہولوسی آکار اور دیگر اعلیٰ افسران کو ایک فوجی اڈے پر ہی عسکری حکام نے یرغمال بنالیا تھا اور یہ واقعہ 16 جولائی کو پیش آیا تھا، اس کے بعد ایف 16 طیاروں سے پارلیمنٹ پر حملے کئے گئے اور صدارتی محل کے قریب بھی بمباری کی گئی تھی۔

مزید پڑھیے

Most Popular