Thu Oct 15, 2026

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

امریکا انسانی نظریات کی ناکامی کا رول ماڈل ہے(ولی امر مسلمین)

 قتل و غارتگری، جنگ بھڑکانا اور بدامنی پیدا کرنا امریکی حکومت کے معمولات کا حصہ بن چکا ہے، موجودہ قائدین نے امریکاکو دنیا بھر میں رسوا کر دیا
 صحت، انصاف اور سلامتی جیسی انسانی اقدار سب سے زیادہ امریکا میں پامال کی جا رہی ہیں،مسائل کو بیرونی دنیا کی تبدیلوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے
تہران (نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو معاشرہ سازی اور سماجی انتظام کے انسانی نظریات کی ناکامی کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قتل و غارتگری، جنگ بھڑکانا اور بدامنی پیدا کرنا امریکی حکومت کے معمولات کا حصہ بن چکا ہے ، کابینہ کے ارکان اور اعلی سرکاری عہدیداروں سے خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ معاشی منصوبوں کو آگے بڑھانے کیلئے پابندیوں کے خاتمے یا کسی ملک میں انتخابی نتیجے کا انتظار نہ کیا جائے،انہوں نے ملکی معیشت کی بیرونی ممالک سے وابستگی کو اسٹریٹیجک غلطی قرار دیااور کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی وسائل اور توانائیوں پر توجہ مرکوز کی جائے اور معاشی و اقتصادی مسائل کو بیرونی دنیا کی تبدیلوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے،ولی امر مسلمین نے معاشرتی انتظام چلانے میں مختلف انسانی نظریات کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امریکا کو اس ناکامی کا رول ماڈل قرار دیااور کہا کہ صحت، انصاف اور سلامتی جیسی انسانی اقدار سب سے زیادہ امریکا میں پامال کی جا رہی ہیں، اندرونی مشکلات اور بد انتظامی ایک طرف اور دوسری طرف شام، فلسطین اور یمن میں قتل و غارتگری، جنگ بھڑکانا اور بدامنی پیدا کرنا امریکیوں کے معمولات کا حصہ بن گیا ہے اور وہ اس سے پہلے یہ تمام کام عراق، افغانستان نیز ویتنام اور ہیرو شیما جیسے علاقوں میں بھی انجام دے چکے ہیں ،انہوں نے امریکا کے موجودہ قائدین کو جنہوں نے اپنے ملک کو دنیا بھر میں رسوا کر دیا، شکست خوردہ انسانی نظریات اور مغرب زدہ یوٹوپیا یا آئیڈیل انسانی سماج کی ناکامی کا مظہر قرار دیا،انہوں نے کہا کہ معاشرہ سازی اور سماجی انتظام سے متعلق اسلام کا خودمختار ماڈل تین بنیادوں”ایمان، علم اور انصاف” پر استوار ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اس گرانبہا کلام کا ذکر کیا کہ ” اگر مومنین ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے تو شکست کھائیں گے۔

مزید پڑھیے

Most Popular