
نیگورنو کاراباخ سے باہر رہائش پذیر آرمینیائی عوام نے جنگ بندی معاہدے کے تحت گاؤں کو چھوڑنے سے قبل اپنے گھروں کو آگ لگادی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 10 نومبر کو آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت نیگورنو کاراباخ سے باہر رہنے والے آرمینیائی لوگوں کو گاؤں چھوڑ کر مذکورہ زمینیں آذربائیجان کے حوالے کرنی تھیں۔ کئی دہائیوں سے آرمینی علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول آذربائیجان کے ضلع کالباجار کے رہائشیوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کردی ہے، کیونکہ معاہدے کے بعد مذکورہ علاقے پر آذربائیجان دوبارہ اقتدار سنبھالے گا۔ روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں آذربائیجان کے نیگورنو۔کاراباخ خطے میں جاری لڑائی روکنے کے اعلان کے ساتھ تقریباً 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کے لیے علاقے میں تعینات کرنے اور علاقوں سے آرمینیا کا قبضہ ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
نیگورنو کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی نے کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آرمینیا نے ہفتہ کے روز کہا کہ ان جھڑپوں میں اس کے 2 ہزار 317 فوجی مارے گئے۔ آذربائیجان نے اپنی فوجی ہلاکتوں کا انکشاف نہیں کیا اور ہفتوں کی لڑائی کے بعد حقیقی تعداد زیادہ ہونے کی امید ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتن نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے زیادہ ہے اور ہزار افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
واضح رہے کہ نیگورنو کاراباخ میں 6 ہفتوں کی لڑائی کے بعد آذربائیجان سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخظ کرنے پر آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پیشینیان کے خلاف شدید احتجاج اور استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہزاروں مظاہرین نیکول غدار کے نعرے لگاتے ہوئے منصب سے الگ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا لیکن پولیس نے انہیں روکا، تاہم مظاہرین نے نیکول استعفیٰ دے دو کے نعرے لگائے۔


































