
کراچی : شیعہ علماء کونسل پاکستان نے سی ٹی ڈی کے نوٹیفکیشن میں لفظ شیعہ ملیٹینٹ سیل کی مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کامطالبہ کیا ہے. شیعہ علما کونسل کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکریٹری علامہ سید ناظرعباس تقوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن سامنے آنے کے بعد سے پوری قوم میں تشویش پائی جاتی ہے اور غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہےان الفاظ کے استعمال سے شیعہ مکتب فکر کی توہین کی گئی اور کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی ہےجوکہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اگر سی ٹی ڈی کسی شخص کے قاتل کو پکڑنا چاہتی ہے تو ضرور پکڑے لیکن قاتلوں اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب و مسلک نہیں ہوتا۔ شیعہ قوم کے ہزاروں افراد کو ملک کے کونے کونے میں چن چن کر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی دوسرے مسالک کانام لے کر انہیں مسالک اور مکاتب کو ہی دہشت گرد اور عسکریت پسند کہنا شروع کردیں علامہ ناظرعباس تقوی نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں اور ریاستی حکام کو سوچنا چاہئے کے وہ ملک کو کہاں لیکر جارہے ہیں، سی ٹی ڈی کے اس متعصبانہ نوٹی فکیشن نے8کروڑ شیعیان حیدرکرار کی دل آزاری کی ہے اور ان کے مذہبی جذبات کو بری طرح مجروح کیاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے ہم نے مقتدر اداروں اور شخصیات سے رابطوں اور ملاقاتوں کا آغازکیا ہے، ہم وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، آئی جی سندھ مشتاق مہراور سی ٹی ڈی حکام سےبھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس متعصبانہ نوٹیفکیشن سے لفظ شیعہ ملیٹنٹ سیل کو فوری طور پر حذف کیا جائے یہ الفاظ مکتب تشیع کی توہین کا سبب بنے ہیں جس نے ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے ۔


































