
2014میں پولیس قافلے پر حملے اور ایک پولیس افسر کے قتل کا الزام میں عدالت نے 2 بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی
تشدد کرکے اعترافی بیانات لئے گئے، اانسانی حقو ق تنظیمیں، حکومتِ بحرین اور عوام کے درمیان گہرا شگاف پیدا ہو گیا ہے، حسین امیر عبد اللہیان
مناما(نیوز ڈیسک) بحرین کی عدالت نے حکومت مخالف 2 بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی،دونوں نوجوانوں محمد رمضان اور حسین موسی ٰ پر 2014میں پولیس قافلے پر حملے اور ایک پولیس افسر کے قتل کا الزام ہے ،انہوں2014میں سزائے موت سنائی گئی تھی ،جسے ایک سال بعد اعلیٰ عدالت نے ختم کردیا، لیکن اب عدالت نے سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی توثیق کردی، انسانی حقو ق کی تنظیموں کے مطابق دونوں سے تشدد کرکے اعترافی بیانات لئے گئے، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیمیں سیاسی اور سماجی کارکنوں کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے ظالمانہ اور تشدد آمیز اقدامات پر بحرینی حکام کو بارہا خبردار کر چکی ہیں،ایران کی پارلیمنٹ میں بین الاقوامی امور کے مشیر حسین امیر عبد اللہیان نے۔ سزائے موت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے سائے میں دو بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتِ بحرین اور عوام کے درمیان گہرا شگاف پیدا ہو گیا ہے


































