
واشنگٹن: انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ کی سربراہ کرسٹلینا جارجیوا نے کہا ہے کہ 2023 میں دنیا کا بڑا حصہ مہنگائی سے متاثر ہوگا۔ سربراہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کے 10ماہ سے جاری روس یوکرین جنگ،دنیا بھر میں ہونے والی مہنگائی اور شرح سود میں اضافے سمیت چین سے اٹھنے والی کورونا کی نئی لہر کے باعث منہگائی کا طوفان آئے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ 2022 کے مقابلے میں 2023 میں معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، امریکا اور یورپ اس سے براہ راست متاثر ہوں گے۔دنیا کا ایک تہائی حصہ معاشی بحران کا شکار رہے گا جس کا سبب امریکا، یورپ اور چین کی معاشی سست روی ہے اور اس کے نتیجے میں بہتر معیشت رکھنے والے ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کے 2023 میں شرح نمو 2.7 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ اسکے مقابلہ 2022 اور 2021 میں شرح نمو بالترتیب 2.7فیصد اور 6 فیصدر ہی۔ چین میں کورونا پابندیوں کیخلاف عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں کورونا کے پھیلاؤ سے نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا متاثر ہو گی۔


































