
کراچی: ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا ہے کہ ہم معاشی طور پر ڈیڈ اینڈ پر پہنچ چکے ہیں، حکمران ملکی معیشت ٹھیک کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری، وفاقی اخراجات میں کمی اور رائٹ سائزنگ کی کمیٹیاں بنیں، میں نے رائٹ سائزنگ کمیٹی سے استعفیٰ دیا، پہلی دو کمیٹیاں تو پہلے ہی ختم ہوگئی تھیں۔ ماہر معاشیات نے مزید کہا کہ میرا موقف ہے معیشت کو استحکام دینے کےلیے اخراجات کم کرنے ہوں گے، 100 روپے کی آمدنی پر 220 روپے کے اخراجات نہیں کیے جاسکتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم 20، 25 سال سے یہ کر رہے ہیں اور قرضے سے خسارہ لے رہے ہیں، ایسے معیشت چل ہی نہیں سکتی، ہم ڈیڈ اینڈ پر پہنچ چکے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ کمیٹی میں شامل کیا گیا تو میں نے کہا اپنا حصہ ڈالوں، کافی عرصہ گزارنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ لوگ تو سنجیدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فیصلوں پر عمل کررہی ہوگی لیکن جو طے ہوگا وہی عمل درآمد کرے گی، 53 میں سے 52 ادارے رکھنے اور صرف ایک بند کرنے کا فیصلہ ہوا تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنے ادارے بند ہوں گے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ جو ادارے کوئی کام نہیں کررہے وہ قائم رہیں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، میں نے موجودہ کمیٹی سے پہلے کی ایک کمیٹی میں رپورٹ پیش کی تھی۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں مزید دو اتھارٹیز بنا دیں، کہتے تھے ادارے کم کرنے ہیں لیکن 2 اور ادارے بنادیے، مجھے اعتراض یہ ہے کہ ڈائریکشن نظر نہیں آتی کہ ہم کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔


































