
کابل : افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت کو کمزور کرنے سے جو انسانی المیہ جنم لے گا اس کے اثرات افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ عرب اخبار میں لکھے گئے کالم میں افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو امارت اسلامیہ افغانستان کے ساتھ اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ امریکا اور دیگر ممالک کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پابندیاں لگانے اور دباؤ ڈالنے سے اختلافات دور نہیں ہوں گے۔ باہمی اعتماد سےہی مسائل کو حل کیاجاسکتا ہے۔افغانستان ناکام حکومتوں کی تاریخ رکھتا ہے اور عالمی طاقتیں اور مضبوط اتحاد بھی اسے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ افغانستان میں موجودہ معاشی بحران کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے پابندیاں اور بینکنگ پابندیاں عائد کرنا ہے، یہ انسانی بحران سے نمٹنے کی ہماری کوششوں میں رکاوٹ اور تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔ غیر ملکی امداد رکنے کے بعد افغان عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ضروری ہے۔ افغانستان میں ترجیحی بنیادوں پر روزگار کے مواقع اور انفرا اسٹرکچر کو بحال اور مکمل کرنا لازمی ہے۔


































