Sat Oct 24, 2026

امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر پھونک دیے، عراقچی الخلیل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی، وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج کی تعداد میں خاموشی سے کمی دمام ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک، 8 زخمی خلیج فارس میں 4 جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر مکمل انحصار نہیں کرسکتے، ٹام بیرک مدر آف آل بمز بھی ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا مقصد جھوٹی فتح کا اعلان کرنا ہے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات

روزانہ کی خبریں

اسلامی تعاون تنظیم کا قبلہ اول مسجد الاقصیٰ کے تحفظ پر زور

دوحہ : اسلامی تعاون تنظیم نے کہا ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ اور اس کا دارالحکومت ہے اور مسجد الاقصیٰ مکمل طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مسجد الاقصیٰ کے حدود میں لوہے کی سلاخیں لگا کر اور اس مبارک مقام تک پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے صیہونی حکومت قبلہ اول کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ او آئی سی کے اس بیان میں صیہونیوں کی ان حرکتوں کو ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے بیان میں مسجد الاقصیٰ اور اس کے صحنوں اور وہاں پر موجود نمازیوں پر صیہونی آبادکاروں اور فوجیوں کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس، مسجد الاقصیٰ اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی اور مقدس مقامات پر مسلسل دراندازی کے ذریعے صیہونی حکومت اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے جو عالمی قوانین کے منافی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ اور بیت المقدس میں موجود مقدس مقامات کے احترام اور آزادی عبادت کی توہین اور خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر صیہونی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس بیان میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے صیہونی حکومت کے ان اقدامات پر روک لگائے جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں تشدد اور کشیدگی پھیل رہی ہے اور سلامتی اور استحکام متاثر ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ ہزاروں صیہونی پولیس افسروں کو بیت المقدس کے قدیم علاقے میں تعینات کرکے مسجد الاقصیٰ کو اپنے محاصرے میں لے لیا تھا اور وہ نمازیوں کو مسجد الاقصی میں داخل ہونے سے روک رہے تھے لیکن اس کے باوجود اسّی ہزار فلسطینی قبلہ اول میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مزید پڑھیے

Most Popular