Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

صدر مملکت نے 26 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیئے، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 26 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیئے، صدر مملکت کے دستخط کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم باضابطہ آئین کا حصہ بن گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 26 ویں آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد توثیق کیلئے صدر آصف علی زرداری کو ایڈوائس بھیجی تھی۔ پارلیمان سے ترمیم منظور ہونے کے بعد وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی توثیق کیلئے صدر پاکستان کو بھیجی جانے والی ایڈوائس پر دستخط کئے۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
26 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کی جانب سے جاری کیا گیا جس کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم بل 2024 ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گیا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم لاگو ہوگئی۔
خیال رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہو چکی ہے، قومی اسمبلی میں ترمیم کے حق میں 225 اراکین نے اور مخالفت میں 12 اراکین نے ووٹ دیئے۔
سینیٹ میں آئینی ترامیم کے حق میں 65 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے، حکومت کے 58، جمعیت علمائے اسلام کے 5 اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2 ووٹ آئے۔
ترمیم کی شق وار منظوری کےدوران تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

مزید پڑھیے

Most Popular