
مجلس میں پودوں کی تقسیم تحریک کی شکل اختیار کرچکی
ہر پاکستانی ایک پودا امام حُسین کے نام پر بھی لگائے
"پلانٹ فار امام حسین علیہ اسلام مہم” امن کا پیغام بھی ہے
لاہور سے توقیر کھرل کی خصوصی رپورٹ
عمومی طور پر دنیا بھر میں محرم الحرام کے دوران جہاں بھی مجلس عزاء بپا ہوتی ہے، بریانی، دودھ، نان اور دیگر اشیاء تبرک یا نیاز کے طور پر تقسیم کئے جاتے ہیں۔ مگر لاہور میں گذشتہ تین سال سے پودے بطور نیاز تقسیم کئے جاتے ہیں۔ یہ مہم ایک ایسے عالم میں زور پکڑ چکی ہے کہ جب دنیا وباوں اور آلودگیوں کا شکار ہوچکی ہے۔ یہ مہم بعنوان "درخت لگاؤ امام حسین کے نام پر” سوشل میڈیا پر معروف ہوئی اور پاکستان کے شہروں میں لوگ اس میں دلچسپی سے حصہ لے رہے ہیں۔ گذشتہ روز لاہور کے علاقہ شادمان میں سالانہ مجلس کے بعد نیاز میں بیسیوں پودے تقسیم کئے گئے۔ مجلس عزاء کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ تمام مسالک و مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی۔ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ابصار نقوی کا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کی ذات مبارکہ تمام مسالک کیلئے نقطہ اشتراک ہے، عالم اسلام اگر اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک سے نجات چاہتا ہے تو امام حسینؑ کے قیام کے مقصد کو سمجھنا ہوگا۔ امام علیہ السلام کی شخصیت اور قیام کے باعث دنیا بھر کے حریت پسند محرم میں امام کی یاد مناتے ہیں۔ مجلس عزاء میں شہید سبط جعفر زیدی کے شاگرد ڈاکٹر محسن کاظمی اور لاہور کے معروف منقبت خواں محسن عابدی نے سو ز و سلام پیش کیا۔ مجلس عزاء کے بعد خواتین اور مرد حضرات نے اپنی پسند کے پودے بطور نیاز حاصل کئے۔
اس موقع پرتنظیم کے بانی رہنماء سید حنین زیدی سے مہم کے آغاز اور کامیابی کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم تین سال سے مجلس عزاء میں پودے تقسیم کرتے ہیں۔ اس انوکھی مہم کا خیال ہمارے تصور میں ایسے آیا کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی نے پاکستان سمیت تمام ممالک کو متاثر کیا ہے تو ہم کیوں نہ ایک ایسی شخصیت سے منسوب کرکے پودے تقسیم کریں، جس کے باعث تمام لوگوں کے دلوں میں محبت کا پیغام بھی عام ہو۔ اس کامیاب مہم کے نتیجے میں ہزاروں پودے تقسیم ہوچکے ہیں اور کئی پودے بڑے بھی ہوچکے ہیں۔ مجلس عزاء میں بطور نیاز پودوں کی تقسیم کی مہم تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں اور بیرون ممالک بھی محرم، ربیع الاول اور ماہ رمضان المبارک کے دوران پودے تبرک کے طور پر تقسیم کئے جاتے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کے نام پر پودے لگائے جاتے ہیں اور اسی نسبت کے باعث پودوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے، تاکہ وہ تناور درخت بن سکیں۔
لکھاری اور سماجی کارکن ملک قمر اعوان کہتے ہیں، جب اس انوکھی مہم کا آغاز ہوا تو میں اس مجلس میں موجود تھا، لوگ بہت حیران تھے کہ آج مجلس میں تبرک کے بطور پر پودے مل رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس مہم نے ملک بھر میں کامیابی حاصل کی اور اب خیال نو تنظیم کے علاوہ دیگر سماجی تنظیمیں بھی اس بہترین قدم کو فروغ دے رہی ہیں۔ پودے تقسیم کرنے سے آئیڈیاز نائن یا خیال نو کے کارکنان نہ صرف ماحولیاتی آلودگی پر قابو پا رہے ہیں بلکہ "پلانٹ فار امام حسین علیہ اسلام مہم” کے ذریعے امن کا عظیم پیغام بھی دے رہے ہیں۔ اس سے قبل ایک مہم چلائی گئی تھی کہ اپنے کسی مرحوم کے نام پر پودا لگائیں اور گذشتہ سال 72 شہدائے کربلا کے نام پر بھی پودے تقسیم کئے گئے تھے۔ یہ ایک انوکھہ خیال ہے، اگر ہم امام حسینؑ کے نام پر پودا لگائیں گے تو اس کا خیال بھی اتنا رکھیں گے، جتنی ہم امام حسین سے محبت کرتے ہیں۔
سماجی کارکن سید عظیم سبزواری کہتے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جو عالمی مہم چل رہی ہے، اس میں ہماری کمیونٹی کا حصہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ زندگی کی بڑھوتری اور ترقی کیلئے یہ مجلس عزاء سے ایک بہت ہی عظیم پیغام دیا جا رہا ہے اس کو عام کرنا چاہیئے۔ مقرر اور سماجی کارکن فرید احمد کہتے ہیں کہ ہم اس سالانہ مجلس عزاء سے مسلکی ہم آہنگی کا پیغام بھی دیتے ہیں، جس میں تمام مکاتب فکر کے افراد شرکت کرتے ہیں اور مجلس کے بعد ملک کے گوش و کنار کو سرسبز و شاداب رکھنے کیلئے پلانٹ فار حسین مہم کے تحت پودے بانٹتے ہیں۔ ہم میں سے ہر شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امام حسینؑ کے نام کا ایک پودا ضرور لگائے۔ سماجی تنظیم کے زیر اہتمام سالانہ مجلس عزاء سے جہاں وطن عزیز میں امن، بھائی چارہ اور یکجہتی کے پیغام کو عام کیا جا رہا ہے، وہیں عوام الناس میں ملک کو سرسبز و شاداب رکھنے کی یاد آوری اور عزم کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اس عالمی ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے خود کو محفوظ کرلے گا۔


































