
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے جرائم پیشہ صیہونی حکومت کو تیل اور غذائی اجناس کی ترسیل بند کرنے کی اپیل کردی۔ طلبا سے خطاب میں ولی امر مسلمین نےکہا کہ غزہ جارحیت میں صیہونی حکومت کے ساتھ امریکا بھی برابر کا شریک ہے امریکی امداد کے بغیر صیہونی حکومت چند لمحوں سے زیادہ ٹک نہیں سکتی۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو چاہئے کہ صیہونی حکومت کا بائیکاٹ کرکے غزہ میں جاری جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا دل غزہ کے عوام کی مصیبت میں خون کے آنسو روتا ہے لیکن غور کیا جائے تو حقیقی معنوں میں اس جنگ کے اصلی فاتح فلسطینی ہیں۔ غزہ کے عوام نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرکے مغرب کے حقیقی اور منافقت سے بھرے چہرے سے پردہ ہٹا دیا ہے اسی وجہ سے آج امریکہ اور مغربی ممالک کی گلیوں اور شاہراہوں پر عوام اپنی حکومتوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
غزہ کے لوگوں نے اپنے صبر و استقامت کے ذریعے پوری دنیا کے انسانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، آج آپ دیکھیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے- ان ہی مغربی ملکوں برطانیہ فرانس اٹلی اور خود امریکا کی مختلف ریاستوں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل کر اسرائیل اور امریکا کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ملکوں کی عزت خاک میں مل گئي ہے اور یہ وہ حکومتیں اور ممالک ہیں جو کسی بھی چیز کا جواز پیش نہيں کرسکتے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی علاج ہے- انہوں نے کہاکہ ایک احمق کہتا ہے کہ برطانیہ میں فلسطینی عوام کی حمایت میں اجتماع ایران کا کام ہے۔ تو کیا لندن اور پیرس کی بسیج نے یہ کام کیا ہے؟ ولی امر مسلمین نے کہا کہ غزہ کا میدان غزہ اور اسرائیل کا میدان نہيں ہے بلکہ حق و باطل کا میدان ہے۔ ایک طرف ایمان ہے اور ایک طرف سامراجی طاقت ہے البتہ سامراجی طاقت بم اور بھاری ہتھیارروں کے ساتھ جرائم اور مظالم کے ساتھ آئی ہے جبکہ ایمان کی طاقت اللہ کی مدد سے ان سب قوتوں پر غلبہ حاصل کرے گی۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور فلسطین کی کامیابی حتمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی ممالک آج فلسطین کی مدد نہ کریں تو گویا دشمن کی مدد کی اور یہ کل ان کے لئے خود بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے گا۔


































