
اسلام آباد : پاکستان نے ہریانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ریاست میں مسلمانوں کے مختلف مقامات پر نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کیے جانے اور مساجد میں توڑ پھوڑ کی سختی سے مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہمیں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں اتر پردیش اور ہریانہ کی ملی بھگت سے سنگھ پریوار کے انتہا پسندوں کی طرف سے مساجد کی مسلسل توڑ پھوڑ اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملوں پر گہری تشویش ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تشویش کے باوجود تریپورہ میں مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں، گھروں اور کاروباروں کے خلاف بے معنی حملے جاری ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں نے اقلیتیوں بالخصوص مسلمانوں کے انسانی حقوق کی منظم اور سنگین خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرنے پر ان لا فُل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ جیسے کالےقوانین کےتحت معروف وکلا اور صحافیوں سمیت سینکڑوں افرادکو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی اور اس سے منسلک گروہوں بجرنگ دل، وشوا اہندو پریشد اور مہاراشٹرا نوَ نرمان کے بنیاد پرست کارکنوں نے مسلمانوں کی دکانوں، مساجد اور مزارات پر مشتعل حملے کیے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ اور متعلقہ انسانی حقوق اور فلاحی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ان کا تحفظ، سلامتی اور بہبود کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔


































