
لاہور: شعیہ علما کونسل نے تحریک جعفریہ کوبھی کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کردیا۔ شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک جعفریہ پاکستان کی نومبر 2016 کے سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ جسٹس ظہیر جمالی نے علامہ ساجد علی نقوی کی اپیل پر ملت جعفریہ کی نمائندہ جماعت ٹی جے پی کی بحالی کا حکم جاری کیاتھا ۔ مگر حکومت نوٹیفکیشن جاری نہ کر کے توہین عدالت کے ساتھ دوغلے پن اور منافقت کا بھی شکار ہے۔ ثابت ہوگیا ریاست تحریک جعفریہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے اورمجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم بھی وہی راستہ اختیار کریں جو ابھی دوسری جماعت نے کیا کیونکہ حکومت اور ریاست آئین اور قانون کی بات ماننے کی بجائے ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے والی پرامن تحریک جعفریہ پاکستان پر جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے دوران لگائی گئی۔اس غیر آئینی پابندی کو سپریم کورٹ نے علامہ ساجد علی نقوی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نومبر 2016 میں پابندی ختم کردی تھی مگر آج تک بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں گیا۔ اور اب توفوجی اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 80 ہزار پاکستانیوں کی قاتل تحریک طالبان سے بھی مذاکرات کامیاب ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پرامن جماعتیں کالعدم اور دہشت گردوں کو قومی سیاسی دھارے میں لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایسا کیوں ہے قوم اس سوال کا جواب چاہتی ہے۔


































