
کتاب حسینی کا ایک باب
شبیر سعیدی
۔۔۔۔۔
مجھے تو توفیق نہیں ملی ان کو قریب سے دیکھنے کی، ملتی بھی کیسے ۔ زمان و مکان کی سرحدیں حائل ہو جاتی ہیں اور لوگ داغ جدائی کا درد سہہ جاتے ہیں۔ ان کے ایام شہادت میں طفولیت کی بھول بھلیوں میں کھویا تھا اور جو شعور کی وادی میں قدم رکھا تو وہ بہت دور چلے گئے تھے ۔ اب جو ان کے بارے میں سنتا ہوں اور سوچتا ہوں تو ایک ایسا تعلق محسوس کرتا ہوں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے ۔ وہ دل میں مہمان بن کر آئے تھے اب خود صاحب خانہ بن چکے ہیں۔
لوگ ان کو شہید کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کا کردار انسان کو حیرت کی وادی میں دھکیل دیتا ہے ۔ کیسے ایک خاکی انسان عروج کی منزلوں سے گزر کر ماہ کامل بن جاتا ہے اور انجم بس نظارہ گر بن کر رہ جاتے ہیں۔
شہید کی کتاب کھولوں تو یقین کے پاؤں سست پڑ جاتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کسی مثالی دنیا کی کہانیاں ہیں لیکن بنی آدم سے کچھ بعید نہیں کہ وہ خاک کو عرش کے برابر کردے۔
کویٹہ پاکستان کے جنوب میں ہے اور پاراچنار بالکل شمال ہے ۔ دونوں کے درمیاں پورا پاکستان پڑتا ہے لیکن یہ فاصلے عشق کی جست کے سامنے ناچیز ہیں۔ کویٹہ کی ہزارہ برادری فارسی میں تکلم کرتے ہیں اور پاراچنار کے باسی پشتو زبان بولتے ہیں۔ مکان و زبان کے یہ فاصلے بھی حاجی عباس کو اپنے معشوق کی بارگاہ میں حاضری سے روک نہیں پاتے تھے ۔ یقیناً الفاظ جذبات کی ترجمانی سے قاصر ہیں لیکن بہرحال اس پاکیزہ سیرت کو سینہ قرطاس میں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اعلی نمونہ عمل تاریخ کے پیچ و خم میں گم ہوجاتے ہیں۔
شہید کو قریب سے دیکھنے والوں کےلئے ان کی ایک ایک یاد ارزشمند ہے اور کسی انمول خزانے کی مانند اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ انمول نمونوں کا ذکر کرتے ہوئے حاجی صاحب جذباتی ہوجاتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے بڑے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کا کس قدر خیال رکھتے ہیں یہ میں نے شہید کی سیرت میں دیکھا ہے۔ حقیقت میں وہ کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھتے تھے ۔ شہید کے وجود کی حرارت انسان کو نئی زندگی دیتی تھی ، ان کی نگاہوں کے سحر میں انسان بے خود ہوجاتا تھا اور ان کے الفاظ انسان کو پروانوں کی مانند طواف پر مجبور کرتے تھے ۔ ان کا چہرہ نور معنویت کا خورشید اور نگاہوں کا کعبہ تھا۔
شہید ایک شفیق باپ کی عینی صورت تھی اور ہر چھوٹا بڑا اپنے تمام وجود کے ساتھ ان کی شفقت پدری کو محسوس کرسکتا تھا۔
میں وہ دن کیسے بھول سکتا ہوں جب لمبے سفر کے بعد ان کے دفتر پہنچا۔ شہید تشریف نہیں رکھتے تھے لہذا موقع غنیمت جان کر ان کے دفتر میں سوگیا۔ نیند کی دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ وقت کے گزرنے کا احساس نہیں رہا ۔ شہید دفتری امور کی انجام دہی کے لیے تشریف لائے تو دیکھا دفتر میں کوئی صاحب سورہے ہیں۔ الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے اور دوسرے کمرے کو عارضی دفتر میں بدل دیا۔ مجھے بتا گیا کہ شہید لوگوں کو منع کرتے رہے کہ اونچی آواز سے بات نہیں کرنا دفتر میں مہمان سورہے ہیں کہیں ان کی نیند خراب نہ ہوجایے۔
میری نیند پوری ہوئی تو کسی نے مجھے ماجرا سنایا۔ بہت شرمندگی ہوئی کہ میری لاپرواہی کی وجہ سے شہید اپنے دفتر میں کام نہیں کرسکے ۔ لیکن دل میں ایک عجیب طرح کا احساس جنم لے چکا تھا کہ اس انسان کے روپ میں خدا نے اس قوم کو ایک شفیق باپ عنایت کیا ہے ۔ میرا سر فخر سے بلند ہوا کہ ہم یتیم نہیں ہیں بلکہ یتیم پرور عارف زمان کا حسینی کردار ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے۔ اب شہید بہت یاد آتے ہیں اور احساس یتیمی بہت ستاتی ہے اور نگاہیں آسمانوں میں کسی حسینی کی آمد کی منتظر رہتی ہیں۔


































