
علامہ مجلسیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ بہائی قدس اللہ روحہ کے ہاتھ کی تحریر دیکھی جس کے الفاظ یہ ہیں:
شیخ شمس الدین محمد بن مکی(شہید اول)کہتے ہیں کہ میں شیخ احمد فراہانیؒ کی تحریر سے نقل کیا ہے جو انہوں نے عنوان بصری سے روایت کی ہے۔عنوان بصری نے 94 سال عمر پائی۔
عنوان بصری کہتے ہیں کہ میں مالک بن انس کے پاس آتا جاتا تھا،جب امام صادق علیہ السلام ہمارے شہر مدینہ میں تشریف لائے تومیں آپ کی خدمت میں حاضرہوا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ جس طرح مالک سے علم حاصل کرتا ہوں اسی طرح ان سے علم حاصل کروں۔ ایک دن آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میں ایسا شخص ہوں جو (حکومت کو)مطلوب رہتا ہوں اور میرے پاس لوگوں کی آمدورفت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود میں دن رات میں خاص ورداور اذکاربجالاتاہوں تم میرے اس کام میں رکاوٹ بنتے ہو، تم پہلے کی طرح مالک بن انس کے پاس جایاکرو، میں آپ کی اس طرح کی گفتگوسے افسردہ اور غمگین ہوااور آپ کے یہاں سے چلاگیااور اپنے دل میں کہاکہ اگرامام مجھ میں کوئی خیردیکھتے تومجھے اپنے پاس بلاتے اور اپنے آپ سے محروم نہ کرتے۔ میں مسجد رسول ﷺ گیا، اور آپ پرسلام کہا، دوسرے دن بھی رسولﷺ کے روضے پرگیادورکعت نماز پڑھی اور دعاکے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہاکہ اے میرے خدا، میرے لئے امام صادق علیہ السلام کادل نرم کردے اور ان کے علم سے مجھے وہ عطا کر جس کے ذریعہ میں صراط مستقیم کی طرف ہدایت پاؤں۔
اس کے بعداس غمگین اور اندوہ ناک حالت میں گھرلوٹ آیا اور مالک بن انس کے پاس نہیں گیا کیونکہ میرے دل میں امام صادق علیہ السلام کی محبت پیدا ہوچکی تھی،میں کافی عرصہ نمازکے علاوہ اپنے گھرسے باہرنہیں نکلتاتھا یہاں تک کہ میراصبرختم ہو گیااور ایک دن امام صادق علیہ السلام کے دروازے پرگیااور اندرجانے کی اجازت طلب کی، آپ کاخادم باہر آیا اور پوچھاکہ تجھے کیاکام ہے؟ میں نے کہاکہ میں امام کی خدمت میں حاضرہوناچاہتاہوں اور سلام کرناچاہتاہوں، خادم نے جواب دیاکہ آقامحراب عبادت میں نمازمیں مشغول ہیں اور وہ واپس گھرکے اندر چلاگیااور میں آپ کے گھرکے دروازے پربیٹھ گیا۔ زیادہ دیرنہیں ہوئی تھی کہ وہ خادم دوبارہ لوٹ آیااور کہاکہ اندرآجاؤ، میں گھرمیں داخل ہوااور آنحضرت پرسلام کیااور آپ نے میرے سلام کاجواب دیااور فرمایاکہ بیٹھ جاؤ، خداتیری مغفرت کرے، میں آپ کی خدمت میں بیٹھ گیا، آپ نے اپناسرمبارک جھکایا اور بہت دیرکے بعداپناسربلندکیا اور فرمایا: تمہاری کنیت کیاہے؟ میں نے عرض کی ابوعبداللہ، آپ نے فرمایا: خداتجھے اس کنیت پرثابت رکھے اور توفیق عنایت کرے۔ تم کیاچاہتے ہو؟ میں نے کہاکہ اگراس ملاقات میں اس دعاکےعلاوہ جوآپ نے فرمائی ہے اور کوئی فائدہ بھی حاصل نہ ہوتو بھی یہ میرے لئے بہت قیمتی اورقابل قدر ہے۔ میں نے عرض کی کہ میں نے خداسے طلب کیاہے کہ خداآپ کے دل کومیرے لئے مہربان کردے اور میں آپ کے علم سے فائدہ حاصل کروں کہ خداوندنے میری یہ دعاقبول کرلی ہوگی۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : ”اے ابوعبداللہ ! علم پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتاہے بلکہ علم ایک نورہے جس کے دل میں چاہتاہے ڈال دیتاہے، پھرفرمایاپس اگرتم علم حاصل کرناچاہوتوپہلے اپنے اندرحقیقت بندگی طلب کرواور علم کواس لئے سیکھو کہ اس سے کام لواور اللہ سے سمجھ کی دعا کرو تاکہ وہ حقائق تم پرظاہرکرے۔
عنوان بصری کہتاہے کہ اے شریف! توآپ نے فرمایا: اے ابوعبداللہ، کہو، میں نے کہا:
ماالحقیقة العبودیة؟
بندگی کی حقیقت کیاہے ؟
آپ نے فرمایا بندگی کی حقیقت تین چیزوں میں ہے:
۱۔ بندہ اس چیزکو جوخداوندعالم نے اسے دی ہے اپنی ملکیت نہ سمجھے کیونکہ بندہ کسی چیزکا مالک نہیں ہواکرتابلکہ مال کواللہ تعالی کامال سمجھے اور اسی راستے میں کہ جس کاخدانے حکم دیا ہے خرچ کرے۔
۲۔ اپنے امورکی تدبیرمیں اپنے آپ کوناتوان اور ضعیف سمجھے۔
۳۔ اپنے آپ کواللہ تعالی کے اوامربجالانے میں مشغول رکھے اگربندہ اپنے آپ کومال کامالک نہ سمجھے توپھراس کے لئے اپنے مال کو اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرناآسان ہوجائے گااور اپنے کاموں اور امورکی تدبیرونگہداری خداکے سپردکردے تواس کے لئے مصائب کاتحمل کرناآسان ہوجائے گااور اگربندہ، خداکے احکام کی بجااور ی میں مشغول رہے تواپنے قیمتی اور گرانقدروقت کوفخرومباہات اور یاکاری میں خرچ نہیں کرے گااگرخدااپنے بندوں کوان تین چیزوں سے نوازدے تواس کے لئے دینااور شیطان اور مخلوق آسان ہوجائے گی اور وہ اس صورت میں مال کوزیادہ کرنے اور فخرومباہات کے لئے طلب نہیں کرے گااورجو چیزلوگوں کے نزدیک عزت اور برترشمارہوتی ہے اسے طلب نہیں کرے گااور یہ تقوی کاپہلادرجہ ہے۔
میں نے عرض کیاکہ اے امام مجھے کوئی وظیفہ اور دستورعنایت فرمائیں توآپ نے فرمایا”میں تجھے نوچیزوں کی وصیت کرتاہوں اور یہ میری وصیت اور دستورالعمل ہراس شخص کے لئے ہے جوحق کاراستہ طے کرناچاہتاہے اور میں خداسے سوال کرتاہوں کہ خداتجھے ان پرعمل کرنے کی توفیق دے۔ تین چیزیں نفس کی ریاضت کے لئے ہیں اور تین دستورالعمل بردباری کے لئے اور تین دستورالعمل علم کے بارے میں ہیں۔ تم انہیں حفظ کرلواور خبرداران کے بارے میں سستی نہ کرو“ عنوان بصری کہتاہے کہ میری تمام توجہ آپ کی فرمایشات کی طرف تھی:
آپ نے فرمایا: ”وہ تین چیزیں جونفس کی ریاضت کے لئے ہیں:
۱۔ خبرداررہوکہ جس چیزکی طلب اور اشتہانہ ہواسے مت کھاؤ۔
۲۔ جب تک بھوک نہ لگے کھانانہ کھاؤ۔
۳۔ جب کھاناکھاؤ تو حلال کھاناکھاؤ اور کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو۔ آپ نے اس کے بعدرسول اللہ کی حدیث نقل کی اور فرمایا کہ انسان برتن کوپرنہیں کرتامگرشکم پرکرنااس سے بدترہوتاہے اور اگرکھانے کی ضرورت ہوتو اسکاایک حصہ کھانے کے لئے اور ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ سانس لینے کے لئے قراردے۔
وہ تین دستورالعمل جوحلم کے بارے میں ہیں:
۱۔ جوشخص تجھ سے کہے کہ اگرتونے ایک کلمہ مجھے سے کہاتومیں تیرے جواب میں دس کلمے کہوں گاتواس کے جواب میں کہہ کہ اگرتونے دس کلمے مجھے کہے تواس کے جواب میں مجھ سے ایک کلمہ نہیں سنے گا۔
۲۔ جوشخص تجھے برابھلاکہے تواس کے جواب میں کہہ دے، کہ اگرتم سچ کہتے ہوتوخدامجھے معاف کردے اور اگرجھوٹ بول رہے توخداتجھے معاف کردے۔
۳۔جوشخص گالیاں دینے کی دھمکی دے توتم اسے نصیحت اور دعاکاوعدہ کرے۔
وہ تین دستورالعمل جوعلم کے بارے میں ہیں وہ یہ ہیں:
الف) جوکچھ نہیں جانتے ہواس کاعلماء سے سوال کرولیکن توجہ رہے کہ تیراسوال کرناامتحان اور اذیت دینے کے لئے نہیں ہوناچاہئے۔
ب) اپنی رائے پرعمل کرنے سے پرہیزکرواور جتناہوسکے اتنا احتیاط کواپنے ہاتھ سے نہ جانے دو۔
ج)۔ اپنی رائے سے (بغیرکسی مدرک شرعی کے) فتوی دینے سے پرہیزکرواور اسے سے اس طرح بچو کہ جیسے کوئی درندہ شیرسے بچتاہے اپنی گردن کولوگوں کے لئے پل قرارنہ دو۔
اس کے بعدآپ نے فرمایا کہ اب اٹھ کرچلے جاؤ، بہت مقدارمیں، میں نے تجھے نصیحت کی ہے اور میرے ذکرکے بجالانے میں زیادہ مزاحم اور رکاوٹ نہ بنوکیونکہ میں اپنی جان کی قیمت کاقائل ہوں اور سلام ہواس پرجوہدایت کی پیروی کرتاہے ۔
…………….
1. شرح اصول کافی درمقدمہ
2. بحارالانوار، علامہ مجلسی ج۱ ص۲۲۴۔
پیشکش: ثقلین فاؤنڈیشن۔قم


































