
- اے انسان! تجھے اپنے پرودگار کی طرف سختیوں کے ساتھ سفر کرنا ہے اُس کے بعد تو اُس سے ملاقات کرے گا‘‘، اِن تمام زحمتوں اور سختیوں کا ہدف خدا سے ملاقات (فَمُلَاقِیہِ)ہے۔ جو بھی ملاقات خدا کیلئے تیار ہے اور اُس نے لقائے اللہ کے لیے اپنے نفس کو آمادہ کرلیا ہے،’’فَليَرحَل مَعَنَا ‘‘ ، ’’تو اُسے چاہیے کہ وہ ہمارے ساتھ چلے ‘‘؛اُسے حسین ابن علی کے ساتھ قدم بقدم ہونا چاہیے اور ایسا شخص گھر میں نہیں بیٹھ سکتا۔ اِن حالات میں دنیا اور اُس کی لذتوں سے لطف اندوز نہیں ہوا جا سکتا اور نہ ہی راہ حسین ابن علی سے غافل ہوا جا سکتا ہے لہٰذا ہمیں ہر صورت میں امام حسین کے ہمراہ ہونا پڑے گا۔ امام عالی مقام کے ساتھ ساتھ یہ قدم اٹھانا اور اُن کے ہمراہ ہونا دراصل ہمارے اپنے اندر کی دنیا یعنی نفس اور تہذیب نفس سے شروع ہوتا ہے اور اِس کا دائرہ معاشرے اور دنیا تک پھیل جاتا ہے۔ یہ سب سید الشہدا کے اہداف اور حسینی تحریک کا خلاصہ ہے۔


































