
اسلام آباد : انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی جانب سے جاری کئے گئے پاناما لیکس سے بڑے پینڈورا پیپرز میں 700سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئیں، پنڈورا پیپرز میں 2وفاقی وزراء شوکت ترین، مونس الٰہی کے علاوہ فیصل واوڈا، پیپلزپارٹی کے شرجیل میمن، اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار، خسرو بختیار کے بھائی۔ تاجر ، میڈیا مالکان اور ریٹائرڈ فوجی افسران شامل ہیں، نئی عالمی تحقیق نے اس مشکوک آف شور فنانشل سسٹم کا بھانڈہ پھوڑا ہے جس سے ملٹی نیشنل کارپوریشنز، امیر، مشہور اور طاقتور لوگوں کو ٹیکس بچانے اور اپنی دولت چھپانے کا موقع ملتا ہے، پنڈورا پیپرز بتاتے ہیں کہ سویلین اور ملٹری ایلیٹ کس طرح اپنا سرمایہ آف شور کمپنیوں میں رکھتے ہیں اور ان سے بیرون ملک جائیدادیں خریدتے ہیں۔ جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں ان کی اکثریت نے یہ کہہ کر ان کمپنیوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے کہ یہ ان کےخاندان کے افراد کی ہیں اور وہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں یا پھر یہ کہا ہے کہ یہ کمپنیاں غیر فعال ہیں۔


































