
کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اس وقت وفاق میں نہ عزت کی جاتی ہے، نہ سیاست کی جا رہی ہے۔ ہم اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے حکومتی بینچ پر بیٹھے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ طے شدہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔ بلاول نے کہا کہ دنیا میں جہاں اقلیتی حکومت ہو اور ان کا اتحاد ہے کسی جماعت کے ساتھ تو اس معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان سے احتجاجاً علیحدہ ہوئے، آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ججز کا طریقہ ہے بینچ سے سیاست کریں، سندھ کے ساتھ بار بار تفریق اور الگ سلوک نظر آتا ہے، جب تک لوئر کورٹس میں اصلاحات نہ ہوں، بہتری نہیں ہو سکتی۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی اور داماد سے پرانی شناسائی ہے، صدر آصف زرداری اور بینظیر شہید اس وقت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو جانتے تھے جب وہ صدر نہیں بنے تھے۔ پاک امریکا تعلقات اتنے اچھے نہیں جتنے ہونے چاہیے، پاکستان کے مفاد میں امریکا سے تعلقات بہتر ہونا چاہیے، انصاف کے ساتھ بڑے ادارے میں برابری کی نمائندگی چاہیے، دیہی سندھ سے نمائندگی ہوتی تو برابری پر بات کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) پر پابندی سے قبل ہم سے مشورہ نہیں کیا، ہم سے مشورہ لیا جاتا تو ہم سمجھاتے کہ پاکستان میں دو شعبے زراعت اور ٹیکنالوجی ہیں جو ملکی معیشت میں سب سے بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام کرنے والے جانتے بھی نہیں کہ وی پی این کیا ہے، کس لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس طرح سے پہلے سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر اہم تھا، آج کے دور میں اسی طرح سے انٹرنیٹ کی اسپیڈ اہم ہے، بد قسمتی سے یہ پالیسیز بنائی جا رہی ہیں کہ ان دونوں شعبوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔


































