
اسلام آباد : پاکستان نے افغانستان میں غذائی بحران سے نمٹنے کیلئے خصوصی فنڈ قائم کردیا جس میں عوام عطیات جمع کراسکتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں 2 کروڑ 30 لاکھ افراد خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور اب تک 8 بچے خوراک کی عدم دستیابی کے باعث جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اگر افغانستان کو خوراک کے بحران سے نہیں بچایا گیا تو صورتحال ناقابل یقین حد تک خراب ہوجائے گی اور اس بارے میں ہر فورم اور سطح پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ ہم دنیا کو اپنے خدشات کا پہلے ہی اظہار کرچکے تھےلیکن اب ہم تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے جو افغان باشندوں کے لیے مناسب ہوں گےاس لیے فنڈ قائم کردیے ہیں تاکہ عوام عطیات جمع کراسکتے ہیں۔کابینہ نے وافر مقدر میں گندم اور چاول افغانستان بھیجنے اور افغانستان کی تمام درآمدات پر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں آئندہ ماہ منعقد کیا جائے گا جہاں مسلم ممالک سے خوارک سے متعلق افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے اپیل کی جائے گی۔


































