
الحاقی منصوبے اور سنیچری ڈیل کا مقصد صہیونی حکومت کی توسیع پسندی، آبادکاری اور فلسطینیوں کو گھروں سے نکال باہر کرنے پر مجبور کرنا ہے،اسماعیل ہنیہ
نوجوان کی شہادت فلسطینی عوام کی استقامت پر کاربند رہنے کی علامت ہے،ترجمان، تمام جلاوطن فلسطینیوں کی آبائی علاقوں میں واپسی کی ضرورت پر زور
غزہ (نیوز ڈیسک) حماس نے الحاقی منصوبے اور ناپاک سنیچری ڈیل کو ناکام بنانے کیلئے عرب اور غیر عرب اسلامی ملکوں کے اتحاداور تمام فلسطینی تنظیموں کی متحدہ مجاہدت کی ضرورت پر زور دیا ہے، حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے عرب اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ ایسی جامع اسٹریٹیجک راہ اختیارکرنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی متحدہ جد و جہد جاری رہے اور استقامت کا عمل علاقے میں عرب و اسلامی اتحاد کے ساتھ اور زیادہ مضبوطی سے آگے بڑھے انہوں نے کہا کہ الحاقی منصوبے اور ناپاک سنیچری ڈیل کا مقصد گریٹر اسرائیل کے تناظر میں غاصب صہیونی حکومت کی توسیع پسندی، آبادکاری اور فلسطینیوں کو گھروں سے نکال باہر کرنے پر مجبور کرنا ہے،مضبوط استقامت غاصب صہیونی حکومت کے لئے دردناک ہونے کے ساتھ ساتھ انکی ذلت آمیز رسوائی کا بھی باعث ہو گی، حماس کے ترجمان حازم قاسم نے غرب اردن میں نوجوان کی شہادت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شہادت کو فلسطینی عوام کی جانب سے استقامت پر کاربند رہنے کی علامت قرار دیا،انہوں نے کہاکہ نوجوان کی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینی عوام ہرگز صہیونی حکومت کے مسلط کردہ حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے، فلسطینی عوام کی استقامت و فداکاری ایسی قوت ہے جو بیت المقدس کے غاصبوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیتی ہے،اُدھر حماس نے غزہ کے خلاف صہیونی جارحیت کو6 برس مکمل ہونے پر تمام جلاوطن فلسطینیوں کی آبائی علاقوں میں واپسی کی ضرورت پر زور دیا ہے، بیان کے مطابق فلسطینیوں کی ایک انچ زمین کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کو غزہ، بیت المقدس اور پورے فلسطین پر حملہ تصور کیا جائے گا


































