
کراچی : جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی آواز کو نہ سنا گیا تو وہ گورنر یا وزیراعلیٰ ہاؤس نہیں راولپنڈی کا رخ کریں گے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین سماجی رہنما بھی موجود تھیں۔ اہل خانہ نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے گھروالے جانتے ہیں کہ وہ پاکستان کی کس جیل میں ہے لیکن ہمارے پیارے کہاں اور کس حال میں ہیں؟ وہ زندہ بھی ہیں یا مار دیئے گئے ہیں؟ ہمیں کچھ پتہ نہیں۔ پریس کانفرنس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ آج کس حال میں ہیں۔ ہم نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے کئی مرتبہ دھرنے دیئے اور ہر ادارے کے دروازے کو کھٹکایا اور جب مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تو مجبور ہوکر اس دروازے کو کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا جو اس ملک میں ہر سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔جب اس دروازے پر دستک دی تو طاقت کے نشے میں دھت ان وحشی پولیس اہلکاروں نے نہ فقط عزت دار خواتین کی چادریں نوچیں ، معصوم بچوں اور عورتوں پر لاٹھی چارج کیا، بلکہ نوجوان بھائیوں کو بھی اٹھا کر تھانے لے گئےجنہیں 8گھنٹے تک قیدوبندمیں مبتلا رکھا گیا۔ہم آج وزیر اعظم اور آرمی چیف کو بتادینا چاہتے ہیں کہ اگر انصاف نہ ملا اور ہماری آواز کو نہ سنا گیا تو اب ہم گورنر ہاؤس، سی ایم ہاؤس یا ایوان صدر کا نہیں بلکہ راولپنڈی کا رخ کریں گے ۔


































