
دوسری محرم
◼️امام حسین ؑ کا شعار◼️
آیت االلہ شہید مرتضی مطہری ؒ
امام حسین ؑ کا شعار حیات بخش ہے:
’’یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ۔۔۔‘‘
اے ایمان والو۱ اللہ و رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے۔۔۔‘‘ (انفال :۲۴)
اباعبد اللہ ایک مصلح ہے ۔یہ آپ خود کے مستقبل کی تعبیر ہے:’’ میں طغیان،سرکشی ،فساد پھیلانے اور ظلم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے جد کی امت کی اصلاح کیلئے نکل رہاہوں اور اپنے اب وجد کی سیرت پر چل رہاہوں ۔”
حضرت ؑنے یہ جملہ اس خط میں لکھا جو آپ نے وصیت نامہ کے طور پر اپنے بھائی محمد حنفیہ کو لکھا تھا کہ جو معذورتھے، حسین ؑکے ساتھ نہیں چل سکتے تھے، ان میں حسین ؑ کے رکاب میں رہنے کی قدرت نہیں تھی ۔امام ؑنے یہ وصیت نامہ ان کے سپرد کیا تاکہ دنیا ان کے نہضت وقیام سے آگاہ ہو۔
حسین ؑنے فرمایا: اے دنیا والو! میں دوسروں جیسا نہیں ہوں میرا انقلاب اس لئے نہیں کہ خود کسی امتیاز کو پہنچوں‘کوئی مال و دولت ہاتھ آئے۔ آج سے پوری دنیا جان لے کہ( یہ خط مدینہ میں لکھا) میں امت کی اصلاح چاہتا ہوں میں سیرت علی ؑ زندہ کرنا چاہتا ہوں۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ اطہار ؑ نے کیوں اتنی تاکید کی کہ عاشورا زندہ رکھیں؟کیوں اتنا اجر وثواب عزاداری کے لئے بیان کیا؟ آیا یہ اجروثواب اسی عزاداری کے لئے ہے جس نوعیت کی ہم اپنے ماں ‘باپ کے مرنے پر کرتے ہیں چونکہ ہمارے مرنے کی کوئی اہمیت نہیں.نہ کوئی فکر‘ نہ کوئی ہدف ہے،ائمہ ؑنے اس جہت سے عاشورا زندہ رکھنے کو کہا ہے تاکہ عاشورا سے صرف حسین ؑنہیں بلکہ مکتب زندہ رکھ سکیں۔اس مکتب کا نمونہ(ماڈل) حسین ؑ ہیں۔ حسین ؑ ایک فکر کی صورت میں زندہ ہیں۔
ہر سال محرم کاچاند دیکھتے ہی تمام فضا میں شخصیت حسین ؑ کی آواز سنائی دینی چاہئے:’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے اجتناب نہیں کیاجارہا، ان حالات میں ہر مومن کا فرض ہے کہ شہادت کے لئے تیار ہوجائے تاکہ لوگوں میں حق اور حقیقت کے ذریعے حیات ‘امر بالمعروف ‘نہی عن المنکراور اسلامی معاشرے کے مسائل کے بارے میں شعور پیدا ہوجائے۔‘‘


































