
راولپنڈی : بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں لیکن بات فیصلے کرنے والوں سے ہوگی۔ اڈٰیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے یہ 9 مئی کا شور مچاتے ہیں۔ 9 مئی ان کی انشورنس پالیسی ہے۔ 9 مئی ختم ہوا تو ان کی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہوجائیں گی۔ تحقیقات کرنا ہے تو 9 مئی کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ ان کو جب معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کوئی بات چیت چل رہی ہے ان کو 9 مئی یاد آجاتا ہے۔ پھر مطالبہ کرتے ہیں 9 مئی پر معافی مانگیں۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی حکومت سے بات چل رہی ہے۔ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ بات ان کے ساتھ ہوگی جو فیصلے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ حکومت سے بات کرنا الیکشن میں ان کے ڈاکے کو تسلیم کرنا ہے۔ ہمارے 8 ستمبر کے جلسے کے تین مقاصد ہیں۔ ایک مقصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے۔ دوسرا مقصد قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلانی ہے۔ تیسرا مقصد ملک میں آزاد عدلیہ ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میرا آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہوگی۔ اگر چانسلر نہ بن سکا تو بھی کوئی بات نہیں۔


































