اسرائیلی وجود صرف بین الاقوامی ناانصافی، امریکا اور بڑی طاقتوں کی حمایت پر منحصر ہے،فلسطینیوں کی مزاحمت اور قربانیوں نے سرحدی حدبندی کو روکا
اسرائیلی حکومت اور فلسطینیوں کے درمیان ٹرمپ کی نام نہاد صدی ڈیل کا مقصد فلسطینیوں کو اپنی سرزمین وقف کرنے پر مجبورکرنا ہے، شیخ نعیم قاسم
بیروت (نیوز ڈیسک) حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں، حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے ورچوئل اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حکومت اور فلسطینیوں کے درمیان ٹرمپ کی نام نہاد صدی ڈیل کی متنازعہ تجویز کا مقصد فلسطینیوں کو اپنی سرزمین وقف کرنے پر مجبورکرنا ہے، صدی کا نام نہاد معاہدہ جنوری میں اپنے اجرا کے وقت سے ہی متنازع منصوبہ تھاکیونکہ یہ یکطرفہ اور فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی ناانصافی مہم کا ایک حصہ ہے، فلسطینیوں کا متحدہ محاذ بین الاقوامی اتفاق رائے سے اس تجویز کو مایوس کرے گا، انہوں نے کہا کہ جب سے برطانوی سرپرستی اور نگرانی میں فلسطینی سرزمین پر قابضین نے قدم رکھا ہے اس وقت سے تفرقے پھیل چکے ہیں ، اور فلسطین اور پورا خطہ انتشار ، محاذ آرائی ، جارحیت اور جرائم میں گھر چکا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ فلسطینی عوام کی مزاحمت اور شہد ا کی قربانیاں ہیں جنہوں نے غاصب حکومت کی سرحدوں کی حد بندی کو روکا اور فلسطینی نسلوں کے حقوق کا تحفظ کیا، شیخ قاسم نے مزید کہا کہ یہ اب ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسرائیل زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، اور اس کا وجود صرف بین الاقوامی ناانصافی، امریکا اور بڑی طاقتوں کی حمایت پر منحصر ہے،ایک انٹرویو میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ امریکا کا خطے میں اصلی ہدف اسرائیل کی حفاظت اور فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرنا ہے ، حزب اللہ ایک مزاحمتی تحریک ہے جس نے اسرائیل کو لبنان سے خارج کردیا اور اسرائیل کے تمام شوم منصوبوں کو ناکام بنادیا،حزب اللہ کا اصلی ہدف اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو روکنا ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- اسرائیل کے پاس زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں،حزب اللہ
اسرائیل کے پاس زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں،حزب اللہ
-
Ilyas - جولائی 16, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 15
- 1 minute read


































