
رسول_میر
کربلا کے پیغام کو عالمی بنانے میں اہلیان بلتستان کا متوقع کردار
جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے اکثر خطے ایسے ہیں جو اپنی تہذیب و ثقافت اور رسوم و رواج کو دنیا کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہے کیونکہ وہاں دیگر اقوام کا آنا جان سرے سے نہیں ہوتا یا پھر بہت کم ہوتا ہے- یہ اعزاز ارض بلتستان کو حاصل ہے کہ یہاں سیاحت اور کوہ نوردی کے غرض سے سارا سال لاکھوں کی تعداد میں پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرونی ممالک سے عوام کا آنا جانا لگا رہتا ہے- کچھ سالوں سے ایک ناعاقبت اندیش گروہ نے ثقافت کے نام پہ صرف ڈانس دکھا کر بلتی قوم کی تابناک ماضی ,تعلیم و تربیت , فنون حرب , تعمیرات , ایجادات , فتوحات , بہترین تہذیب , عوام کی شرافت ,امن پسندی , مہمان نوازی , غیرت و حمیت , جرات و بہادوری اور حیاء عفت پر مبنی ثقافت کو طاق نسیاں کا شکار بنایا تھا-
خدا کا شکر ہے اس دفعہ اسد عاشورا کے ایام اور پھر اس کے بعد عشرہ محرم کے دوران سیاحوں کو بلتی ثقافت کا اصل چہرہ دیکھنے کا موقع ملا ہے- نگر نگر گلی گلی چوک چورا ہوں پہ چھوٹے چھوٹے بچے ٹھنڈے پانی کے سبیل , مختلف اقسام کے مشروبات , چائے , قہوہ , بھلے اور مختلف اقسام کے غذاؤں کو ٹیبل اور پلیٹوں میں سجا کر کچھ اس طرح سیاحوں کو روک رہے تھے جیسے برسوں سے بچھڑے ہوئے کسی عزیز کا شدت سے انتظار کر رہے ہو- کسی راہ گیر یا سیاح سے اس کا قوم , قبیلہ , مذہب یا مسلک پوچھے بغیر حسین کے دسترخواں پہ دعوت دے رہے تھے- سیاح بلتی قوم کی شرافت , ایثار , اپنائیت اور انسان دوستی کا اعلٰی مثال دیکھ چشم نم کے ساتھ اقرار کر رہے تھے واقعاً بلتی دنیا کے مہذب ترین قوم ہے- یہ ہوتی ہے کسی بھی قوم کی تہذیب یافتہ ہونے کی دلیل, اسے کہتے ہیں بہترین ثقافت, یہ ہوتی اصل انسانیت جس کا میرے بلتستان کے شریف زادوں نے مظاہرہ کیا ہے- صد آفرین ایسے سپوتوں پر جنہوں نے آباء و اجداد کی اعلٰی تہذیب و ثقافت کا بہترین انداز میں نمائندگی کی- بلتی قوم کو یہ اعزاز فقد محبت اہلبیت اور غم حسین کہ وجہ سے ملا ہوا ہے-
اس عمل کو اور زیادہ منظم کرنے کی ضرورت ہے- کیونکہ آنے والے وقتوں میں دنیا بھر سے کڑوڑوں انسانوں کی آمد متوقع ہے- انٹرنیشنل ایرپورٹ اور سیاحت کا عالمی حب ہونے کے ناطے بلتستان کا معاشرہ بہت جلد ایک عالمی سماج میں تبدیل ہوجائے گا- جو افراد امریکہ , روس ,چین , فرانس , کینیڈا, جاپان اور جرمن جیسے دور افتادہ اور ترقی یافتہ ممالک سے اٹھ کر یہاں آتے ہیں وہ کوئی عام بندہ نہیں بلکہ اپنے اپنے ممالک کے خواص پر مشتمل ہوتا ہے- یعنی خدا وند متعال نے آپ کو دنیا کے تمام خواص تک اپنی بہترین تہذیب اور حسینیت کے پیغام کو بہترین انداز میں پہنچانے کا موقع فراہم کیا ہے- فرصت شناس افراد سے گزارش ہے کہ اس بہترین موقع سے بروقت استفادہ کرنے کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کیا جائے-
یکم محرم سے چہلم تک , ایام فاطمیہ میں اور بالخصوص اسد عاشورا کے ایام میں بلتستان تشریف لانے والے سیاحوں کو یہ بھاور کرادے کہ وہ بلاد اہلبیت میں حسین کا مہمان بن کر آیا ہے- چاہے وہ اپ کا دشمن ہی کیوں نہ ہو- مسلک و مذہب اور اچھا برا نہ دیکھے- کیونکہ ہم اس کا پیروکار ہے جس نے قاتل کو بھی اپنے ہاتھوں سے دودھ پلایا تھا- ہم اس عظیم ہستی کی یاد منا رہے ہیں جس نے اپنے جواں سال بھائی کے قاتل کو گھر بلا کر خاطر تواضع کی تھی-
مجالس کے بعد نیاز کو صرف امام بارگاہ تک محدود رکھنے اور آپس میں مل بیٹھ کر کھانے کے بجائے سیاحتی مقامات , ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤس تک پہنچایا جائے-
مجالس حسین کا تعارف مذہبی رسومات کے طور پہ نہیں بلکہ انسانی اقدار کی احیاء کے طور پر کریں کیونکہ حسین شہید انسانیت ہے-
سکھ , ہندو , عیسائی, یہودی یا پھر لادین سمجھ کر کسی کو در حسین سے دور نہ رکھے تمام سیاحوں کو مجالس میں شرکت کی دعوت دیں-
انسانی حقوق سے دلچسپی رکھنے والے سیاحوں سے کہے چلو بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں- آزادی رائے کے لئے سرگرم عمل سیاحوں سے کہے کہ حریت و آزادی سب سے بڑا علم بردار حسین ابن علی کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں- Women impowerment کے لئے سرگرم عمل سیاحوں کو بتائے چلئے ایک ایسی عظیم عورت کی سر گزشت سنتے ہیں جس نے انتہائی نا مساعد حالات میں لٹے ہوئے قافلے کا بہترین انداز میں قیادت کرکے رہتی دنیا تک ایک مثال قائم کی ہے-
بچوں کی حقوق سے مربوط افراد کو اصغر کی مظلومانہ شہادت کا قصہ سنائے- وکلاء کو بتائے کہ کائنات کی سب سے سچے گواہوں کو جھٹلا کر کس طرح عدالت کے تقاضوں کو پامال کیا گیا- الغرض زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے لئے تحریک کربلا میں عظیم پیغام موجود ہے اگر ہم اس پیغام کو پوری محاسن کے ساتھ دنیا تک پہنچانے میں کامیاب ہوا تو انسانیت تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرینگے-


































