
لاہور: صوبے پنجاب میں سیاسی اور آئینی بحران عدالت پہنچ گیا۔ رات گئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر برطرف کردیا اور صوبائی کابینہ بھی تحلیل کردی جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی گئی تھی انہوں نے مقررہ وقت تک ایوان سے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا جس پر انہیں ڈی نوٹیفائی کیا جارہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے گورنر کا اقدام غیر آئینی قرار دیتے ہوئے صدر عارف علوی کو خط لکھ دیا ہے جس میں گورنر کو ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کرنے اور صوبائی کابینہ تحلیل کرنے کےخلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کردی گئی ہے۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر نے غیر قانونی اور غیرخآئینی کام کیا۔ گورنر وزیر اعلیٰ کو تعینات کرنے کی اتھارٹی نہیں اسی لئے وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔


































