
تل ابیب : اسرائیل کے انٹیلی جنس اور دفاعی حکام نے شدید ردعمل کے خوف سے حزب اللہ کے بجائے حماس کیخلاف کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل کو لبنان میں ایسی جنگ کی طرف راغب ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کے علاقائی تنازعہ میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہو۔ اسرائیل نے لبنان سے راکٹ فائر کرنے کے لیے حماس کو مورد الزام ٹھہرایا اور غزہ میں سرنگوں اور ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات پر بمباری کے ساتھ جواب دیا۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے دو اہلکاروں نے کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ وسیع تر تنازعے سے بچنے کے لیے غزہ اور لبنان میں حماس کے ٹھکانوں پر رات کے وقت کیے جانے والے حملوں کو فوکس کیا۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ نے کئی بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجے تھے کہ وہ لبنان سے راکٹ حملے کا حصہ نہیں ہے۔ اس موقف کو اسرائیلی حکام نے تسلیم کرلیا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے پہلے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوؤو گیلنٹ کے درمیان بات چیت میں فوج اور موساد نے تجزیہ پیش کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں پر حزب اللہ کا ردعمل کیا ہو گا۔موساد کے سربراہ ڈیوڈ پارنیا نے کہا کہ حزب اللہ ممکنہ طور پر کسی بھی اسرائیلی فضائی حملے کا جواب دے گی۔ دفاعی اہلکار کے مطابق اسرائیل کو حزب اللہ کے ساتھ ساتھ حماس کے اہداف اور لبنانی اہداف پر حملہ کرنا چاہیے۔ لیکن اسرائیلی قابض فوج کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا کہ اسرائیلی مفاد حزب اللہ کو ضرب لگانے میں نہیں بلکہ اسرائیل کا ردعمل حماس پر مرکوز رہنا چاہیے۔اسرائیلی حکام نے کہا کہ بعد میں اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں جن اہم مسائل پر بات کی گئی ان میں سے ایک لبنان میں اسرائیل کے ردعمل کا دائرہ کار تھا۔ ایک دفاعی اہلکار نے بتایا کہ سیکیورٹی سربراہوں نے وزراء کو بتایا کہ حزب اللہ کو وسیع تر ردعمل کے نتیجے میں تنظیم ممکنہ طور پر اسرائیلی شہروں پر میزائل فائر کرے گی، جو جنگ کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تمام وزراء نے حماس پر ردعمل پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے فوج کی سفارشات کو قابل عمل قرار دیا۔


































