
دمشق: سینیئر عرب پارلیمنٹیرینز کے ایک وفد نے دمشق میں شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کو شام میں تنازعے پر ایک دہائی سے زیادہ سردمہری کے بعد تعلقات میں مثبت پیش رفت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ عراقی، اردنی، فلسطینی، لیبیا، مصری اور متحدہ عرب امارات کے ایوانِ نمائندگان کے ساتھ ساتھ عمان اور لبنان کے نمائندوں نے عرب بین الپارلیمانی یونین کے وفد کے طور پر شام کا سفر کیا۔ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد حلبوسی نے بتایا کہ ہم شام کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے اور شام اپنے عرب ماحول کے بغیر نہیں رہ سکتا جس کے بارے میں ہمیں امید ہے کہ وہ اس میں واپس آ جائے گا۔2011 میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف بشار الاسد کے مہلک کریک ڈاؤن کے بعد شام بڑی حد تک عرب دنیا سے الگ ہو گیا تھا۔ عرب لیگ نے 2011 میں شام کی رکنیت معطل کر دی تھی اور کئی عرب ممالک نے اپنے سفیروں کو دمشق سے بلوا لیا تھا۔


































